بلوچستان کی تاریخ میں، بلوچ خواتین نے ہمیشہ اپنے خاندانوں، قوم اور ثقافت کا دفاع کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر آج بلوچ خواتین جنگی میدان میں حصہ لے رہی ہیں، تو یہ نہ صرف ان کے جرات مندانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ایک اہم سماجی اور تاریخی پیش رفت بھی ہے۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے، ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ شمولیت صرف ایک فوجی اور عسکری معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری سماجی اور سیاسی حقیقت چھپی ہوئی ہے، جو خواتین کی خودمختاری، طاقت اور قوم کے لیے ان کی محبت کو ظاہر کرتی ہے۔
بلوچ خواتین کا جنگی میدان میں قدم رکھنا:
بلوچ خواتین کی جنگی شرکت نہ صرف ان کی جرات و بہادری کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ان کے سماجی اور سیاسی شعور کا بھی ثبوت ہے۔ بلوچ معاشرت میں خواتین نے ہمیشہ مضبوط حیثیت حاصل کی ہے، چاہے وہ خاندان کی سربراہ ہوں، یا کسی قومی تحریک میں حصہ لیں۔ بلوچ خواتین کا جنگی محاذ پر متحرک ہونا، دراصل ان کے روایتی کردار کی توسیع ہے، جو ماضی میں بھی اپنے قبیلے اور قوم کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں۔
جدید دور میں، جب دنیا بھر میں خواتین کی عسکری اور مزاحمتی تحریکوں میں شمولیت بڑھ رہی ہے، بلوچ خواتین کی جنگوں میں شرکت ایک منفرد اور اہم موضوع بن سکتی ہے۔ اس کا تعلق نہ صرف قومی خودمختاری اور ثقافتی بقا سے ہے بلکہ یہ خواتین کی طاقت اور ان کے سماجی مقام میں بھی تبدیلی کی علامت ہے۔
اسلامی تاریخ میں خواتین کا کردار:
اسلامی تاریخ میں بھی خواتین نے جنگی محاذ پر قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔ جیسے کہ غزوہ احد میں حضرت ام عمارہؓ (نسیبہ بنت کعبؓ) نے دشمن کے حملے کا مقابلہ کیا اور تلوار و ڈھال کے ساتھ دفاع کیا، یا غزوہ خندق میں حضرت صفیہ بنت عبدالمطلبؓ نے ایک یہودی جاسوس کو قتل کیا۔ ان کے علاوہ، حضرت خولہ بنت الازورؓ بھی جنگ یرموک اور جنگ قادسیہ میں بہادری کے ساتھ شریک ہوئیں، اور ان کی تلوار اور نیزہ چلاتی ہوئی تصویر اسلامی تاریخ کا ایک جرات مندانہ باب ہے۔
اسی طرح، حضرت ام الخیرؓ نے جنگ صفین میں میدان جنگ میں رہ کر حضرت علیؓ کے لشکر کے حوصلے کو بلند کیا۔ ان خواتین کی شجاعت اور بہادری نے نہ صرف اپنے وقت کے مردوں کو متاثر کیا بلکہ آج بھی ان کا کردار ہمیں عورتوں کی طاقت اور عزت کا درس دیتا ہے۔
بلوچ خواتین کا کردار، ایک نیا باب:
آج جب بلوچ خواتین جنگی محاذ پر ہیں، تو یہ ایک نہایت اہم سماجی اور سیاسی تبدیلی کا مظہر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بلوچ خواتین کا نہ صرف معاشرتی مقام تبدیل ہو رہا ہے، بلکہ ان کا عسکری میدان میں حصہ بھی نئی حکمت عملیوں اور چیلنجز کو سامنے لاتا ہے۔ اگر بلوچ خواتین آج جنگوں میں حصہ لے رہی ہیں، تو یہ ان کے بدلتے ہوئے سماجی مقام اور عسکری مہارت کے اظہار کی علامت ہے۔
یہ شمولیت ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے، جہاں خواتین نہ صرف اپنے ملک کی خودمختاری اور سیاسی جدوجہد کا حصہ بن رہی ہیں، بلکہ وہ اپنے معاشرتی کردار کو بھی نئے سرے سے تشکیل دے رہی ہیں۔ بلوچ خواتین کی جنگی محاذ پر موجودگی نہ صرف صنفی مساوات کی طرف ایک قدم ہے، بلکہ عسکری حکمت عملی میں بھی نئے زاویے متعارف کروا رہی ہے۔
آخرکار، بلوچ خواتین کا جنگی میدان میں حصہ لینا نہ صرف ایک تاریخی تبدیلی ہے بلکہ اس کا تعلق بلوچ معاشرتی ڈھانچے اور عالمی سطح پر خواتین کی عسکری شرکت سے بھی ہے۔ اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچ خواتین نہ صرف اپنی قوم کے دفاع کے لیے لڑ رہی ہیں بلکہ وہ اپنے حقوق اور مقام کی جدوجہد میں بھی شریک ہیں۔ یہ ایک نیا باب ہے جو بلوچ تاریخ اور عالمی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
Add comment