حال ہی میں گدان ٹی وی نے پاکستانی جیلوں سے رہائی پانے والے ایک بلوچ قیدی کا انٹرویو کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہاں قیدیوں کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہے تاکہ پاکستان کی ظُلم و جبر اور بلوچ قیدیوں پر تشدد کو دُنیا کے سامنے لایا جاسکے۔
بلوچ قیدی نے پاکستان آرمی کی جیلوں کے اندر ہونے والے بدترین تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف کیا ہے۔ اس انٹرویو میں قیدی نے بتایا کہ پاکستانی جیلوں میں بہت سے بلوچ قیدی بشمول شبیربلوچ، تشدد کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔
قیدی نے جیل کے اندر ہونے والے مختلف تشویشناک طریقوں اور ٹیکنیک کا تفصیل سے ذکر کیا، جن میں نہ صرف جسمانی اذیتیں شامل ہیں بلکہ ذہنی اذیتیں بھی دی جاتی ہیں۔
قیدی نے بتایا کہ جیلوں میں قیدیوں کو اُلٹا لٹکایا جاتا ہے، انہیں سونے کی اجازت نہیں دی جاتی، اور اکثر ان پر تشدد کرکے ان کی کمر توڑ دی جاتی ہے۔ جس کمرے میں قیدیوں پر تشدد ہوتا ہے، وہاں خون کی بدبو اور خون کے دھبے دیواروں پر واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور سنگین اور دل دہلا دینے والی حقیقت یہ بیان کی گئی کہ قیدیوں کو ایک خاص طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس میں ایک ڈنڈے میں تیل اور مرچ لگا کر قیدیوں کی عزت نفس کو پامال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل بار بار دہرا کر قیدیوں کو جسمانی اور ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔
بلوچ قیدی (ڈاکٹر بلوچ) نے انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستانی فوج کے اہلکار نوجوان قیدیوں کا ریپ کرتے ہیں اور بعض اوقات انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ دوسرے قیدیوں کا ریپ کریں۔ اس دوران ان تمام واقعات کی فلم بندی بھی کی جاتی ہے۔
یہ انکشافات سامنے آنے کے بعد، کچھ حلقوں میں خاص طور پر بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے حمایتیوں میں غصہ اور اشتعال دیکھنے کو ملا۔ ان کا موقف البتہ یہ نہیں ہے کہ پاکستان کو اس معاملے پر سخت جوابدہ ہونا چاہیے، اور پاکستان کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، ان افراد نے گدان ٹی وی اور فری بلوچستان موومنٹ (FBM) کو اس معاملے میں مورد الزام ٹھہرایا اور ان پر سیاسی الزام تراشیوں اور گالم گلوچ کا ہدف بنایا۔
BNM کے حمایتیوں اور سینئر کارکنوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات، آرٹیکلز اور بیانات میں کوئی وائل کرنے والی دلیل نظر آتی بلکہ ذاتی ضد ہی زیادہ نمایاں ہے۔
خاص طور پر شبیربلوچ پاکستان آرمی کی حراست میں مبینہ موت کی خبر کو لیکر BNM کے حامی کا زیادہ غصے اور بے چینی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم سب کی دعا ہے کہ شبیربلوچ زندہ، سلامت اور صحت مند ہوں اور یہ انکشاف کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہو۔ کبھی کبھار قیدیوں پر اس قدر تشدد کیا جاتا ہے کہ وہ اس حد تک بے ہوش ہو جاتے ہیں کہ انہیں مردہ سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ اس حالت میں زندہ ہوتے ہیں۔ اللہ کرے کہ شبیربلوچ کا واقعہ بھی ایسا ہی ہو۔
اس صورتحال میں بلوچ انسانی حقوق کے کارکنوں، BNM کے حامیوں اور شبیربلوچ کے اہل خانہ کو ان انکشافات سے فائدہ اُٹھانا چاہیے تھا اور پاکستان پر اندرونی اور عالمی سطح پر دباؤ بڑھانا چاہیے تھا تاکہ شبیربلوچ کی حالت کے بارے میں حقیقت سامنے آ سکے۔ اس معاملے کو اتنی شدت سے اُٹھایا جانا چاہیے تھا کہ پاکستان مجبور ہو کر جواب دیتا کہ آیا شبیر بلوچ اور دوسرے افراد جن کا نام گدان ٹی وی کی مہمان نے لی ہے وہ زندہ یا نہیں؟ اگر زندہ ہیں تو کہاں اور کس حال میں اور اگر زندہ نہیں تو ان کی لاش کہاں دفنائی گئی ہے؟ لیکن افسوس کہ BNM کے حمایتی صرف اپنی منفی سیاست کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب، یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ گدان ٹی وی نے شبیربلوچ کی فیملی کو مایوس کرنے کے لیے ایسا انٹرویو شائع کیا تاکہ وہ مایوس ہو جائیں اور جد و جہد کو چھوڑ کر گھر جاکر بیٹھ جائیں۔ یہاں پر پہلا سوال یہ ہے کہ گدان ٹی وی ایسا کیوں کریگا اس سے گدان ٹی وی کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا بلوچ سیاسی کارکن بشمول شبیر بلوچ کی بہن صرف اپنے خاندانوں کے لیے سر بہ کفن ہوکر میدان میں اُترتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ماما قدیر، جنہوں نے اپنے بیٹے کا جنازہ خود کندھا دیا ہے، وہ ابھی تک کیوں سڑکوں پر در بدر ہیں؟ مہرنگ بلوچ، جنہیں اپنے والد کا جنازہ مل چکا ہے، وہ کیوں ریاست کے خلاف لوگوں کو نکال کر جد جھد کررہے ہیں؟
دوسرے بھی ایسے اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں بلوچ ہیں جن کی پیاروں کو شھید کیا گیا لیکن وہ گھر میں بیٹنے کی بجائے ریاست کو دُنیا کے سامنے ایکسپوز کرنے کےلیئے جد و جہد کررہے ہیں۔
یہ سوالات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچ قوم کے حقوق کے لیے لڑنے والے افراد کے لیے ان کی ذاتی قربانیاں کسی بھی ذاتی اور گروہی مفادات سے بڑھ کر ہیں، اور ان کا مقصد صرف انصاف ، انسانی حقوق کی حفاظت اور آزادی ہے۔
آخری سوال یہ ہے کہ گدان کے مہمان نے تو شبیر بلوچ علاوہ دگر بھی لوگوں کا نام لیا ہے کہ وہ بھی جیل میں تشدد کی وجہ سے شہید ہوگئے ہیں۔ کیا ان قیدیوں کی کوئی وارث نہیں ہے کیا ان کے خاندان نہیں ہیں؟ اور ان کے بارے میں بی این ایم کیوں خاموش ہے؟ ایسا نظر آتا ہے کہ سیاسی پارٹی کی سیاست صرف اپنے ممبرز تک یا علاقے کے لوگوں اور جاننے والوں تک محدود ہے۔ ان کا محور و مقصد بلوچ قوم نہیں بلکہ اپنے گروہی اہداف کی حاصل و حصول ہے۔
حرف آخر: پاکستانی جیلوں میں ہونے والے انسانی حقوق کی پامالی اور قیدیوں پر ہونے والے تشدد کی یہ کہانیاں ایک سنگین مسئلہ ہیں، جن پر عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان انکشافات کو سیاسی و گروہی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بجائے اس مسئلے کی حقیقت کو سامنے لانے اور قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔ تمام بلوچ آزادی پسند پارٹیوں اور انسانی حقوق کےلئے کام کرنے والے گروپس کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے بلوچ سر زمین کے قابضین کی جانب سے بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ تب بلوچ قوم اپنے آصل مقصد آزادی، جمہوریت اور انصاف کی حصول میں کامیاب ہوسکے گی۔
Add comment