مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ بلوچ قومی تحریک سے جن چیزوں کی توقع تھی، یا آج بھی جن امیدوں کے ساتھ اسے دیکھا جاتا ہے، ان میں سے بہت سی چیزیں دور دور تک نظر نہیں آتیں۔ ماضی میں جو کچھ ہوا، اسے فی الحال ایک طرف رکھ کر اگر ہم صرف 2000ء سے آج تک کے سفر کا جائزہ لیں تو ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے کہ اس طویل جدوجہد نے ہماری سیاسی، فکری، تنظیمی اور ریاستی تیاری میں بنیادی طور پر کیا تبدیلی پیدا کی ہے؟ دنیا اس عرصے میں ناقابلِ تصور رفتار سے تبدیل ہو چکی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس، سائبر اسپیس، ڈیٹا، جدید میڈیا، معیشت اور عالمی مواصلات نے طاقت کے پرانے تصورات کو بدل دیا ہے، لیکن ہماری قومی جدوجہد میں اب بھی بہت کچھ اسی پرانی طرزِ فکر کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے: جذبات کو ابھارنا، تعداد بڑھانا اور مسلح جدوجہد کو مزید تیز کرنا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں صرف جذبات اور بڑی تعداد کسی قوم کو اس کے سیاسی مقصد تک پہنچا سکتی ہے؟
یہ سوال شاید تلخ ہو، لیکن اسے پوچھنا ضروری ہے۔ مجھے کبھی کبھی اپنے سیاسی حلقوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ہم ایک آزاد ریاست کے خواب کی بات تو کرتے ہیں، لیکن اس ریاست کی عملی ساخت، اداروں، معیشت، انتظامیہ، قانون، تعلیم، سائنس اور انسانی وسائل کے بارے میں ہماری سنجیدہ منصوبہ بندی کہاں ہے؟ ریاست صرف ایک جغرافیہ، پرچم یا آزادی کے اعلان کا نام نہیں۔ ریاست ایک پیچیدہ سیاسی، قانونی، معاشی اور انتظامی نظام ہوتی ہے۔ اسے چلانے کے لیے قانون دان، ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، ماہرینِ معیشت، منتظمین، سفارت کار، اساتذہ، محققین، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور ہزاروں دوسرے شعبوں کے تربیت یافتہ افراد درکار ہوتے ہیں۔ اگر ہمارا مقصد واقعی ایک جدید قومی ریاست قائم کرنا ہے تو پھر ہمیں آج سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ اس ریاست کو چلانے والے لوگ کہاں سے آئیں گے۔
لیکن یہاں ایک اور، اس سے بھی بنیادی سوال ہے: کیا یہ علمی اور تکنیکی تیاری صرف آزادی کے بعد ریاست چلانے کے لیے ضروری ہے؟ یا آزادی سے پہلے آزادی کے مقصد اور اس کے حصول کی جدوجہد کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے؟
میرے خیال میں اس سوال کا جواب واضح ہے۔ اگر ایک قومی تحریک یہ سمجھتی ہے کہ اس کا مقصد آزادی ہے تو اسے سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ آزادی چاہتی کیوں ہے، اس آزادی کا سیاسی تصور کیا ہے، مستقبل کی ریاست کس اصول پر قائم ہوگی، اس کے شہریوں کے حقوق کیا ہوں گے، اس کے ادارے کیسے ہوں گے، معیشت کس بنیاد پر کھڑی ہوگی اور عالمی نظام میں اس ریاست کا مقام کیا ہوگا۔ اس کے بعد سوال آتا ہے کہ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے سیاسی، سفارتی، علمی، معاشی، ابلاغی اور دیگر پُرامن و قانونی ذرائع میں کون سی صلاحیتیں درکار ہیں۔ یعنی ریاست سازی کی تیاری اور آزادی کے حصول کی تیاری دو الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
اگر ہمیں آزادی کے تصور، عالمی سیاست، بین الاقوامی تعلقات، معیشت، قانون، تاریخ، ابلاغ، ٹیکنالوجی اور جدید ریاستی نظام کی بنیادی سمجھ ہی حاصل نہیں تو پھر ہم آزادی کے اپنے مقصد کو علمی بنیادوں پر کیسے واضح کریں گے؟ دنیا کے سامنے اپنا سیاسی مقدمہ کیسے پیش کریں گے؟ اپنی قوم کے اندر ایک واضح سیاسی شعور کیسے پیدا کریں گے؟ مستقبل کے اداروں کا تصور کیسے بنائیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر، آزادی کے بعد پیدا ہونے والے پیچیدہ مسائل کے لیے پہلے سے تیاری کیسے کریں گے؟
یہاں ہماری نوجوان نسل کا سوال سب سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے بڑا انسانی سرمایہ ہوتے ہیں۔ مگر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ ہم اس سرمایہ کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ اگر ہماری بنیادی ترجیح یہ ہو کہ نوجوانوں کو صرف تصادم کے لیے تیار کیا جائے اور قومی کامیابی کا پیمانہ بھی زیادہ تر اسی تصادم کے گرد گھومنے لگے تو ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی ایک قومی ریاست کی بنیاد تیار کر رہے ہیں، یا ہماری قومی جدوجہد آہستہ آہستہ ایک دائمی دشمنی کی صورت اختیار کر رہی ہے؟
کبھی کبھی ہماری سیاست اور جنگی بیانیے کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی ریاست کے خلاف ایک طویل المدت قومی منصوبہ نہیں بلکہ کسی دوسرے خاندان سے خاندانی دشمنی کا بدلہ لے رہے ہوں۔ حالانکہ قومی جدوجہد اور خاندانی دشمنی میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ خاندانی دشمنی میں مقصد دوسرے کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے؛ قومی جدوجہد کا مقصد ایک نئے سیاسی اور اجتماعی مستقبل کی تعمیر ہوتا ہے۔ اگر ہماری توجہ صرف اس بات پر مرکوز ہو جائے کہ مخالف کو کتنا نقصان پہنچا، تو خطرہ یہ ہے کہ قومی مقصد پس منظر میں چلا جائے اور تصادم خود مقصد بن جائے۔
یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ یہاں جنگ یا مسلح مزاحمت کے سوال کو سادہ طور پر رد کرنے کی بات نہیں کی جا رہی۔ اصل سوال قومی جدوجہد کی مجموعی سمت، ترجیحات اور تیاری کا ہے۔ آج کی دنیا میں طاقت کے میدان وسیع ہو چکے ہیں۔ معلومات، ابلاغ، میڈیا، ٹیکنالوجی، معیشت، سفارت کاری، تحقیق، تعلیم اور عوامی رائے بھی قومی طاقت کے اہم میدان بن چکے ہیں۔ اس لیے اگر ہم قومی جدوجہد کو صرف ایک ہی میدان اور ایک ہی طرزِ فکر تک محدود کر دیں گے تو ہم جدید دنیا کے ایک بڑے حصے کو نظرانداز کر دیں گے۔
آج ایک نوجوان کمپیوٹر سائنس پڑھتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قومی جدوجہد سے باہر ہو گیا۔ اگر کوئی نوجوان مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر انجینئرنگ، روبوٹکس یا جدید مواصلاتی نظام میں مہارت حاصل کرتا ہے تو وہ جدید دور کی ایک بنیادی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ کوئی نوجوان میڈیا، صحافت، فلم، گرافکس، ڈیجیٹل کمیونیکیشن اور معلوماتی نظام کا ماہر بنتا ہے تو وہ ابلاغی میدان میں قومی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ کوئی معاشیات اور مالیات پڑھتا ہے تو وہ مستقبل کی معاشی بنیاد کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ کوئی بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری پڑھتا ہے تو وہ عالمی سیاسی نظام کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ کوئی قانون اور آئینی علوم پڑھتا ہے تو وہ مستقبل کے سیاسی و قانونی ڈھانچے کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔ کوئی انجینئر بنتا ہے تو وہ مستقبل کے انفراسٹرکچر اور صنعتی صلاحیت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یہ سب قومی جدوجہد سے فرار نہیں؛ یہ قومی جدوجہد کے میدان کو وسیع کرنا ہے۔
اگر ہمارا مقصد آزادی ہے تو ہمیں آزادی کے بارے میں بھی علمی سوالات اٹھانے ہوں گے۔ آزادی کس سیاسی تصور کے تحت؟ کس آئینی اصول کے ساتھ؟ شہریوں کے حقوق اور ذمہ داریاں کیا ہوں گی؟ اقلیتوں، خواتین اور مختلف سماجی طبقات کے حقوق کیسے محفوظ ہوں گے؟ معیشت کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہوگا؟ تعلیم، صحت، پانی، توانائی اور روزگار کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟ عالمی دنیا کے ساتھ تعلقات کس بنیاد پر قائم ہوں گے؟ اور اس پورے سیاسی تصور کو دنیا کے سامنے کس زبان، دلیل اور علمی معیار کے ساتھ پیش کیا جائے گا؟
یہ سوال آزادی کے بعد پوچھنے کے لیے نہیں چھوڑے جا سکتے۔ اگر ان پر آزادی سے پہلے سوچا ہی نہیں گیا تو آزادی کے بعد اچانک ان کے جواب کہاں سے آئیں گے؟
اسی لیے، میرے خیال میں، بلوچ قومی تحریک کی قیادت کو اپنی نوجوان نسل کے بارے میں بنیادی طور پر مختلف سوچ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے پاس وسائل محدود ہیں تب بھی چار پانچ سو باصلاحیت نوجوانوں کو منتخب کرکے مختلف ممالک اور تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم اور تخصص کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ انہیں محض ایک ہی شعبے میں نہیں بلکہ مختلف سائنسی، تکنیکی، معاشی، قانونی، سیاسی اور انتظامی میدانوں میں تیار کیا جائے۔ کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر انجینئرنگ، روبوٹکس، الیکٹریکل اور الیکٹرانکس انجینئرنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، جدید توانائی، بائیوٹیکنالوجی، میڈیکل سائنس، پانی اور آبی وسائل، ماحولیاتی علوم، زراعت اور فوڈ ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کے ساتھ ساتھ معاشیات، مالیات، قانون، آئینی علوم، بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری، پبلک پالیسی، انتظامی علوم، میڈیا اور تحقیق میں بھی ماہرین تیار کیے جائیں۔
یہ چار پانچ سو نوجوان محض ڈگریاں حاصل کرنے والے افراد نہ ہوں بلکہ قومی فکر اور مستقبل کی ذمہ داریوں کو سمجھنے والے انسان ہوں۔ ان کے درمیان علمی رابطہ ہو، تحقیق کا نظام ہو اور انہیں مستقبل کی قومی ذمہ داریوں کے لیے انسانی سرمایہ سمجھا جائے۔ آج ہمارے پاس جدید ٹیکنالوجی خریدنے کے وسائل نہ بھی ہوں، تب بھی ہمیں سب سے پہلے وہ انسان تیار کرنے چاہییں جو کل اس ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں، استعمال کر سکیں، ترقی دے سکیں اور اپنی ضروریات کے مطابق نئی ٹیکنالوجی پیدا کر سکیں۔ کیونکہ ٹیکنالوجی خریدی جا سکتی ہے، مگر ٹیکنالوجی کی حقیقی صلاحیت صرف خریدنے سے پیدا نہیں ہوتی؛ ماہرین اور علمی ادارے برسوں میں تیار ہوتے ہیں۔
یہی لوگ آزادی سے پہلے بھی قومی مقصد کے لیے کارآمد ہوں گے اور آزادی کے بعد بھی۔ آزادی سے پہلے وہ تحقیق، تعلیم، ابلاغ، سیاسی شعور، سفارت کاری، معاشی منصوبہ بندی اور علمی مباحث میں کردار ادا کر سکتے ہیں؛ آزادی کے بعد یہی انسانی سرمایہ ریاست کے اداروں، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں، صنعت، معیشت، انتظامیہ، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے نظام کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس لیے تعلیم اور تخصص کو آزادی کے بعد کا منصوبہ سمجھنا ہی بنیادی غلطی ہے۔ یہ آزادی سے پہلے کی قومی تیاری کا بھی حصہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ ماہرین بھی ہمارے لیے ایک بہت بڑا قومی سرمایہ ہیں۔ آج اگر بلوچ نوجوان دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، کمپنیوں، ہسپتالوں، ٹیکنالوجی کے مراکز اور مالیاتی اداروں میں سائنس، طب، انجینئرنگ، کمپیوٹر، معیشت، قانون اور دوسرے شعبوں میں کام کر رہے ہیں تو کیا قومی سطح پر ان کے ساتھ علمی اور تحقیقی رابطہ قائم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش موجود ہے؟ اگر ایسے ماہرین کو ایک منظم علمی نیٹ ورک سے جوڑا جائے تو وہ آنے والی نسل کی تعلیم، تحقیق اور انسانی وسائل کی تیاری میں بہت بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ قومیں صرف میدان میں موجود افراد سے نہیں بنتیں؛ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے علمی اور انسانی سرمائے کو منظم کرنے سے بھی بنتی ہیں۔
لیکن یہاں ایک اور بنیادی مسئلہ سامنے آتا ہے: قیادت کی ترجیحات۔ قیادت کا کام صرف عوام کے جذبات کو متحرک کرنا نہیں ہوتا۔ قیادت کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ قوم کے محدود وسائل کو مستقبل کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت میں کیسے تبدیل کرتی ہے۔ اگر ایک نوجوان قربانی دینے کے لیے تیار ہے تو یہ اس کے جذبے کی علامت ہو سکتی ہے، لیکن قیادت کا کام صرف اس جذبے کو استعمال کرنا نہیں؛ قیادت کا کام یہ بھی ہے کہ اسی نوجوان کی صلاحیت کو پہچانے، اسے تعلیم دے، تربیت دے اور اسے مستقبل کی قومی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرے۔ جذبات کو صلاحیت میں تبدیل کرنا قیادت ہے؛ صرف جذبات کو مزید بھڑکانا قیادت کا مکمل متبادل نہیں۔
ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قومی تحریک کے پاس اگلے دس، بیس اور تیس سال کا انسانی وسائل کا منصوبہ کیا ہے۔ کتنے انجینئر تیار ہوں گے؟ کتنے سائنس دان؟ کتنے ڈاکٹر؟ کتنے معاشی ماہر؟ کتنے ٹیکنالوجی ماہر؟ کتنے قانون دان؟ کتنے سفارت کار؟ کتنے محقق؟ کتنے اساتذہ؟ اور کتنے ایسے لوگ جو مستقبل کے قومی ادارے قائم اور منظم کر سکیں؟
اور اس سے بھی پہلے یہ سوال کہ قومی تحریک کے پاس آزادی کے اپنے سیاسی مقصد کی کوئی واضح علمی تعبیر، طویل المدت حکمتِ عملی اور سیاسی تیاری کا منصوبہ کیا ہے؟ آزادی صرف ایک نعرہ نہیں؛ آزادی ایک سیاسی مقصد ہے، اور سیاسی مقصد کے لیے سیاسی شعور، علمی تیاری، تنظیمی صلاحیت، انسانی سرمایہ اور واضح تصورِ ریاست درکار ہوتا ہے۔
اگر ان سوالات کے واضح جواب ہمارے پاس نہیں ہیں تو پھر ہمیں صرف مخالف کی حکمتِ عملی پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی حکمتِ عملی کا بھی سنجیدہ احتساب کرنا چاہیے۔
اس کے باوجود ہماری سیاسی گفتگو میں ایک جملہ بار بار سننے کو ملتا ہے: ’’پہلے ملک آزاد ہو جائے، پھر سب کچھ کر لیں گے۔‘‘ یہ تصور میرے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ ملک کوئی گاڑی نہیں کہ آزادی کے دن چابی ہاتھ میں آئے، ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھیں اور گاڑی چل پڑے۔ ریاست چلانے کی صلاحیت آزادی کے دن پیدا نہیں ہوتی۔ اسے برسوں پہلے سے تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ آج سے یونیورسٹیاں، آج سے ماہرین، آج سے تحقیق، آج سے انتظامی صلاحیت، آج سے معاشی فکر اور آج سے ادارہ سازی کی تیاری کرنا پڑتی ہے۔
اسی طرح آزادی حاصل کرنے کی سیاسی صلاحیت بھی آزادی کے دن پیدا نہیں ہوگی۔ دنیا کے سیاسی نظام کو سمجھنا، عالمی رائے عامہ کو سمجھنا، سفارتی زبان اور بین الاقوامی قانون کو سمجھنا، جدید ابلاغ کو سمجھنا، اپنی سیاسی دلیل کو علمی بنیادوں پر مرتب کرنا اور اپنے معاشرے میں سیاسی شعور پیدا کرنا بھی برسوں کی تیاری مانگتا ہے۔
آزادی کے بعد اچانک سائنس دان پیدا نہیں ہوں گے۔ آزادی کے بعد اچانک انجینئر، ڈاکٹر، معاشی ماہر، قانون دان، سفارت کار اور ٹیکنالوجی ماہر پیدا نہیں ہوں گے۔ اگر یہ انسانی سرمایہ آج تیار نہیں کیا گیا تو کل آزادی کے بعد بھی ہم ایک بنیادی سوال کے سامنے کھڑے ہوں گے: ریاست چلائے گا کون؟
اور اگر آزادی سے پہلے ہی ہم نے سیاسی، علمی، سفارتی، معاشی اور تکنیکی صلاحیت پیدا نہیں کی تو پھر ایک اور سوال سامنے آئے گا: آزادی کے اپنے سیاسی مقصد کو دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش اور منظم کیسے کیا جائے گا؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ریاست صرف کسی مخالف کو شکست دینے سے نہیں چلتی۔ ریاست کو اپنے شہریوں کو تعلیم دینی ہوتی ہے، صحت فراہم کرنی ہوتی ہے، معیشت چلانی ہوتی ہے، قانون نافذ کرنا ہوتا ہے، عدالتیں چلانی ہوتی ہیں، پانی اور توانائی کا انتظام کرنا ہوتا ہے، دنیا کے دوسرے ممالک سے تعلقات قائم کرنے ہوتے ہیں اور اپنی معیشت کو عالمی نظام کے ساتھ جوڑنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے صرف بہادری کافی نہیں؛ علم، نظم، ادارہ اور تخصص درکار ہوتا ہے۔
اسی لیے ہمیں قربانی کے تصور پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ قربانی اپنی جگہ ایک حقیقت اور قومی جدوجہد کا اہم حصہ ہو سکتی ہے، لیکن قربانی کو خود مقصد نہیں بنانا چاہیے۔ اصل سوال ہمیشہ یہ ہونا چاہیے کہ یہ قربانی ہمیں کس مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے۔ اگر نسلیں قربان ہوتی رہیں اور ہر نئی نسل وہیں کھڑی ہو جہاں پچھلی نسل کھڑی تھی، تو ہمیں صرف مزید قربانی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے؛ ہمیں اپنی حکمتِ عملی کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
قومی جدوجہد کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ قربان ہوئے، کتنے لوگ میدان میں آئے یا مخالف کو کتنا نقصان پہنچا۔ اصل امتحان یہ بھی ہے کہ ہم نے کتنے قابل انسان تیار کیے، کتنے ادارے بنائے، کتنی علمی صلاحیت پیدا کی، کتنی معاشی بنیاد قائم کی، آزادی کے اپنے سیاسی مقصد کو کتنا واضح کیا اور مستقبل کی ریاست کے لیے کتنی انسانی و ادارہ جاتی تیاری کی۔
قومیں صرف اپنے شہیدوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں اپنے اساتذہ، سائنس دانوں، انجینئروں، ڈاکٹروں، محققین، ماہرینِ معیشت، قانون دانوں، سفارت کاروں، منتظمین، ٹیکنالوجی ماہرین اور ادارہ سازوں سے بھی بنتی ہیں۔
اس لیے بلوچ قومی تحریک کے سامنے آج بنیادی سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم کتنے نوجوان میدان میں لا سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہم کتنے نوجوانوں کو اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ آزادی کے سیاسی مقصد کو سمجھیں، اس کے لیے علمی اور سیاسی صلاحیت پیدا کریں، دنیا کو سمجھیں، اپنی قوم کے لیے علمی سرمایہ بنیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک جدید قومی ریاست کی بنیاد رکھ سکیں۔
اگر ہم واقعی ایک آزاد اور جدید قومی ریاست چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی جدوجہد کو صرف ایک میدان تک محدود نہیں کرنا ہوگا۔ ہمیں علم، سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، تعلیم، ابلاغ، سفارت کاری اور ادارہ سازی کے تمام میدانوں میں اپنی قومی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ آزادی کے لیے بھی یہ صلاحیتیں درکار ہیں اور آزادی کے بعد ریاست کے لیے بھی۔
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ہم جدوجہد تو کرتے رہیں گے، قربانیاں بھی دیتے رہیں گے، تاریخ بھی بناتے رہیں گے، مگر جس مستقبل کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں، اس مستقبل کو تعمیر کرنے کی تیاری ہی نہیں کریں گے۔
اور شاید یہی وہ بنیادی سوال ہے جس سے اب بلوچ قومی تحریک کو فرار نہیں کرنا چاہیے: ہم اپنی آنے والی نسل کو صرف قربانی کے لیے تیار کر رہے ہیں، یا مستقبل بنانے کے لیے بھی؟ کیونکہ ایک نوجوان کسی بھی تصادم کا ایک حصہ بن سکتا ہے، لیکن ایک تعلیم یافتہ، ماہر اور باشعور نوجوان پوری قوم کے مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ قومی جدوجہد کیسے جاری رکھی جائے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کس طرح ایسی سیاسی، علمی، سائنسی، معاشی اور ادارہ جاتی طاقت میں تبدیل کیا جائے جو آزادی کے سیاسی مقصد کو سمجھنے، اس کے لیے مؤثر سیاسی و علمی تیاری کرنے اور مستقبل میں ایک جدید ریاست کو چلانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
آزادی صرف حاصل کرنے کی چیز نہیں؛ آزادی کے قابل ہونے کی تیاری بھی ضروری ہے۔


Add comment