دنیا میں کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ اس کے کتنے لوگ مختلف ممالک میں آباد ہیں، بلکہ اصل طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ لوگ منظم سماجی سرمایہ، مضبوط اداروں، باہمی اعتماد، تعلیم، معاشی تعاون، نوجوانوں کی تربیت، خواتین کی شرکت اور اجتماعی خدمت کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط ہوجائیں۔

یورپ، امریکہ اور برطانیہ میں مختلف immigrant communities کی کامیابی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ کمیونٹی کی مضبوطی محض جذباتی وابستگی سے نہیں آتی اس کے لیے مستقل ادارے، واضح قواعد، تربیت یافتہ رضاکار، شفاف مالی نظام، مقامی سطح کی تنظیمیں اور ایک ایسا governance model ضروری ہوتا ہے جس میں افراد سے زیادہ ادارہ اہم ہو۔

یورپی کمیشن بھی migrant participation کے حوالے سے اس بات پر زور دیتا ہے کہ migrants اور ان کی organisations کو پالیسیوں کی تشکیل، implementation اور evaluation میں شامل کیا جائے۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ meaningful participation اکثر local level پر زیادہ مؤثر ہوتی ہے اور migrant-led civil society organisations ادارہ جاتی خلا کو پُر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اسی اصول کو بلوچ ڈائسپورا پر لاگو کیا جائے تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ کیا یورپ، امریکہ اور برطانیہ میں رہنے والے بلوچ اپنی سیاسی وابستگیوں کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے ایک ایسی مشترکہ Community Institution قائم نہیں کرسکتے جو سیاست اور گروہی اختلافات سے بالاتر ہو کر صرف بلوچ کمیونٹی کی سماجی، تعلیمی، ثقافتی، معاشی اور فلاحی ترقی کے لیے کام کرے؟

میرا جواب ہے بالکل کرسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے افراد کو مرکز بنانے کے بجائے ادارے کو مرکز بنانا ہوگا۔

1۔ Community Base اصل میں کیا ہے؟

کمیونٹی بیس سے مراد صرف ایک تنظیم یا فیسبک گروپ نہیں بلکہ ایک مضبوط Community Base کے کم از کم سات ستون ہوتے ہیں۔

1. افراد اور خاندان
2. مقامی community organisations
3. رضاکاروں کا نیٹ ورک
4. تعلیم اور skills development
5. مالی اور معاشی تعاون
6. ثقافتی اور سماجی سرگرمیاں
7. مضبوط governance اور accountability

یعنی Community Base کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی نیا بلوچ خاندان جرمنی، برطانیہ، امریکہ یا کسی دوسرے یورپی ملک میں پہنچے تو اسے تنہا نہ چھوڑا جائے۔

اسے زبان، تعلیم، قانونی معلومات، روزگار، رہائش، بچوں کی تعلیم، معاشرتی integration، community events اور دیگر بنیادی معاملات میں رہنمائی مل سکے۔

یورپ میں community participation کے بارے میں تحقیق بتاتی ہے کہ کامیاب ماڈلز میں local authorities، civil society، migrant organisations، researchers اور دوسرے stakeholders کو ایک مشترکہ platform پر لایا جاتا ہے۔ اسے آج کل multi-stakeholder collaboration کہا جاتا ہے۔

برطانیہ میں بھی research نے دکھایا ہے کہ community integration زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب خود migrant communities کے افراد منصوبوں کی design اور implementation میں شریک ہوں اور مقامی “community champions” تیار کیے جائیں۔

امریکہ میں بھی immigrant integration کے لیے community organisations، education، capacity building اور partnerships کو باقاعدہ اہمیت دی گئی ہے۔ USCIS کے مختلف پروگراموں میں community-based organisations کے ذریعے outreach، citizenship education اور capacity building شامل رہے ہیں۔

اس سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے کہ مضبوط کمیونٹی وہ نہیں جس میں صرف بہت سے لوگ ہوں بلکہ مضبوط کمیونٹی وہ ہے جس میں لوگوں کو منظم کرنے والا مضبوط نظام موجود ہو۔

یورپ، امریکہ اور برطانیہ میں بلوچوں کے لیے ایک ایسا مشترکہ ادارہ قائم کیا جاسکتا ہے جسے مثال کے طور پر

Global Baloch Community Network (GBCN)

کہا جاسکتا ہے۔

یہ نام صرف ایک تصور ہے اصل نام مختلف consultation کے بعد طے ہوسکتا ہے۔

اس ادارے کی بنیادی خصوصیت یہ ہوں

“Political neutrality, community unity and institutional independence”

یعنی

سیاسی جماعتوں سے آزادی، گروہی وابستگی سے آزادی، مگر بلوچ کمیونٹی کے اجتماعی مفادات کے لیے مکمل وابستگی۔

یہ کسی سیاسی پارٹی کا متبادل نہیں ہوگا۔

یہ کسی سیاسی تنظیم کے خلاف بھی نہیں ہوگا۔

بلکہ اس کا کام ہی مختلف سیاسی وابستگی رکھنے والے بلوچوں کو ایک ایسے مشترکہ دائرے میں لانا ہوگا جہاں وہ سیاسی اختلاف کے باوجود community work کرسکیں۔

سب سے اہم اصول: Politics کو ختم نہیں بلکہ ادارے سے الگ کرنا

یہ فرق بہت اہم ہے۔

یہ کہنا شاید عملی نہیں کہ بلوچ اپنی سیاسی وابستگیاں ختم کردیں۔

ایک شخص کسی سیاسی جماعت یا تحریک سے وابستہ ہوسکتا ہے، دوسرا کسی دوسری جماعت یا تحریک سے۔

مثلاً ایک شخص سیاسی طور پر A گروپ کے ساتھ ہے، دوسرا B کے ساتھ، تیسرا کسی کے ساتھ نہیں۔

لیکن تینوں اس بات پر متحد ہوسکتے ہیں کہ

– بلوچ بچوں کو تعلیم ملنی چاہیے۔
– نئی نسل کو اپنی زبان سیکھنی چاہیے۔
– نئے آنے والے خاندانوں کی مدد ہونی چاہیے۔
– طلبہ کو scholarships ملنی چاہئیں۔
– بزرگوں کی مدد ہونی چاہیے۔
– خواتین کو community life میں جگہ ملنی چاہیے۔
– نوجوانوں کو skills training ملنی چاہیے۔
– ضرورت مند خاندانوں کے لیے welfare system ہونا چاہیے۔
– بلوچ ثقافت اور تاریخ محفوظ ہونی چاہیے۔

یہی Community Consensus ہے۔

بلوچ سیاست کا سب سے بڑا مسئلہ: Group Identity کا Community Identity پر غالب آنا

بلوچ diaspora میں ایک بڑا structural مسئلہ یہ ہوسکتا ہے کہ لوگ خود کو پہلے کسی مخصوص گروہ، تنظیم، شخصیت یا سیاسی camp سے identify کرنے لگتے ہیں اور اس کے بعد بلوچ community سے۔

یہ رویہ کسی ایک شخص یا ایک تنظیم کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک organizational culture کا مسئلہ بن سکتا ہے۔

جب community organisation کسی ایک گروہ کے زیراثر ہوجائے تو چند مسائل پیدا ہوتے ہیں:

پہلا مسئلہ اعتماد ختم ہوتا ہے

دوسرا گروہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ ادارہ سب کا نہیں بلکہ مخصوص لوگوں کا ہے۔

دوسرا مسئلہ نئے لوگ دور ہوجاتے ہیں

ایک عام بلوچ، طالب علم، businessman، خاتون یا نوجوان کسی سیاسی conflict کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ اگر community platform مسلسل political factionalism کا میدان بن جائے تو وہ اس سے دور ہوجاتا ہے۔

تیسرا مسئلہ وسائل ضائع ہوتے ہیں

ایک شہر میں پانچ چھوٹے گروپ الگ الگ fundraising، events اور organisations چلا سکتے ہیں، جبکہ محدود human اور financial resources تقسیم ہوجاتے ہیں۔

چوتھا مسئلہ نئی نسل disconnect ہوجاتی ہے

نوجوان نسل کو اگر ہر community meeting میں صرف سیاسی اختلاف، الزام تراشی اور گروہی مقابلہ نظر آئے تو وہ community organisation کو اپنی زندگی کا مثبت حصہ نہیں سمجھتی۔

پانچواں مسئلہ ادارہ شخصیت کا محتاج ہوجاتا ہے

جب organisation کسی ایک leader کے گرد بنائی جائے تو leader کے ساتھ organisation بھی کمزور ہوجاتی ہے۔

مضبوط institution وہ ہے جو founder کے بغیر بھی چل سکے۔

بلوچ community institution کے لیے سب سے اہم اصول ہونا چاہیے

personality should be bigger than the institution.

یعنی صدر، سیکریٹری، coordinator یا founder قابلِ احترام ہوسکتا ہے، مگر organisation کسی فرد کی ملکیت نہیں۔

اس کے لیے

– محدود مدت کے عہدے
– واضح election procedures
– independent audit
– written constitution
– conflict-of-interest rules
– transparent membership
– annual report
– financial report
– complaints procedure
– independent oversight

ضروری ہوں گے۔

یہی وہ چیز ہے جو ایک informal group کو professional community institution میں تبدیل کرتی ہے۔

ایک عالمی بلوچ community network کو ابتدا میں سیاسی موضوعات کے بجائے community services پر توجہ دینی چاہیے۔

1۔ Newcomer Support

نئے آنے والے بلوچ خاندانوں کے لیے

رہائش کی بنیادی معلومات
– language courses
– registration guidance
– school information
– healthcare navigation
– employment information
– local authority information
قانونی اور administrative referrals

2۔ Education

ایک مستقل:

Baloch Education & Scholarship Programme

قائم کیا جاسکتا ہے۔

اس کے تحت:

– scholarships
– university guidance
– career counselling
– mentoring
– language learning
– digital skills
– professional networking

ہو۔

3۔ Youth Development

نوجوان کسی بھی diaspora کی future leadership ہوتے ہیں۔

اس لیے:

Baloch Youth Council

قائم کیا جاسکتا ہے۔

لیکن یہ سیاسی youth wing نہیں بلکہ:

– leadership training
– public speaking
– career development
– sports
– volunteering
– cultural activities
– professional networking

کا platform ہو۔

4۔ Women’s Participation

اگر community institution میں خواتین کی meaningful participation نہیں ہوگی تو community کا نصف potential استعمال ہی نہیں ہوگا۔

خواتین کے لیے:

– professional networking
– education
– entrepreneurship
– parenting support
– cultural programmes
– mentoring

جیسے شعبے قائم کیے جاسکتے ہیں۔

5۔ Elderly & Welfare

ایک:

Baloch Community Welfare Fund

قائم کیا جاسکتا ہے جو حقیقی ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرے۔

لیکن welfare کے لیے واضح eligibility criteria اور independent review ضروری ہوں تاکہ favoritism نہ ہو۔

Cultural Institution

ثقافت کو سیاست سے الگ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ا

Baloch Cultural & Heritage Centre

یا digital cultural archive قائم ہوسکتا ہے۔

اس میں:

– بلوچی زبان
– براہوی زبان
– Baloch folklore
– music
– literature
– oral history
– historical documents
– photographs
– traditional arts
– children’s cultural programmes

محفوظ کیے جائیں۔

یہ آنے والی نسل کے لیے سب سے اہم سرمایہ ہوسکتا ہے۔

Professional Baloch Network

دنیا بھر میں بلوچ doctors، engineers، lawyers، IT specialists، professors، teachers، entrepreneurs اور دوسرے professionals موجود ہیں۔

ان سب کو ایک:

Baloch Professionals Network

میں جوڑا جاسکتا ہے۔

مثلاً ایک نوجوان جرمنی میں engineering پڑھ رہا ہے، اسے کسی senior بلوچ engineer سے mentor مل جائے۔

ایک طالب علم امریکہ میں university admission چاہتا ہے، اسے کسی professional سے guidance مل جائے۔

ایک نیا entrepreneur business شروع کرنا چاہتا ہے، اسے community کے business network سے مدد مل جائے۔

یہ social capital پیدا کرتا ہے۔

اور social capital ہی مضبوط diaspora communities کی اصل طاقتوں میں سے ایک ہے۔

Digital Infrastructure

آج کے دور میں community organisation صرف physical office سے نہیں بن سکتی۔

ایک professional digital system ضروری ہوگا:

مرکزی Website

جس میں:

– Member directory
– Events
– Jobs
– Scholarships
– Community services
– Volunteer registration
– Donation system
– Local chapters
– Resource library

شامل ہوں۔

Mobile/WhatsApp/Signal Community System

لیکن WhatsApp کو institution کا substitute نہیں بلکہ communication tool سمجھا جائے۔

Central Database

کمیونٹی کے ارکان کا data صرف consent، privacy rules اور applicable GDPR/UK/US data-protection قوانین کے مطابق رکھا جائے۔

Local Chapters: Global network نہیں بلکہ Local roots

سب سے بڑی غلطی یہ ہوگی کہ پہلے ہی “Global Baloch Organisation” بنا کر مرکزی office کھول دیا جائے۔

زیادہ مؤثر طریقہ:

Local → National → Regional → Global

ہے۔

مثلاً:

Germany

Wuppertal
Berlin
Hamburg
Cologne
Frankfurt
Munich

UK

London
Manchester
Birmingham
Bradford وغیرہ

USA

Washington DC
New York
Los Angeles
Texas وغیرہ

پہلے local community groups بنیں۔

پھر ہر ملک کی national coordination council بنے۔

اس کے بعد:

European Baloch Community Council

اور پھر:

Global Baloch Community Network

قائم کیا جائے۔

یہ decentralised model زیادہ resilient ہوگا۔

Scientific طریقہ کار کیا ہونا چاہیے؟

Community building کو جذباتی انداز کے بجائے evidence-based approach سے چلایا جانا چاہیے۔

پہلا مرحلہ:

Community Mapping

پتا لگایا جائے:

– کتنے بلوچ کس ملک میں ہیں؟
– کس شہر میں کتنے ہیں؟
– عمر کا تناسب کیا ہے؟
– کتنے students ہیں؟
– کتنے professionals ہیں؟
– کن شعبوں میں کام کرتے ہیں؟
– سب سے بڑے community problems کیا ہیں؟
– کون سی organisations پہلے سے کام کررہی ہیں؟

دوسرا مرحلہ:

Needs Assessment

Survey کیا جائے۔

مثلاً 1,000 بلوچ خاندانوں سے پوچھا جائے:

آپ کی community کی سب سے بڑی پانچ ضروریات کیا ہیں؟

پھر data کی بنیاد پر priorities طے کی جائیں۔

تیسرا مرحلہ:

Pilot Project

پہلے ایک شہر میں چھ ماہ کا project چلایا جائے۔

مثلاً:

Newcomer Support + Youth Mentoring

اگر کامیاب ہو تو دوسرے شہروں میں replicate کیا جائے۔

چوتھا مرحلہ:

Measurement

ہر project کے لیے measurable indicators ہوں:

– کتنے افراد کو مدد ملی؟
– کتنے students کو mentoring ملی؟
– کتنے نئے volunteers آئے؟
– کتنے خاندان services تک پہنچے؟
– کتنے youth programmes میں شریک ہوئے؟
– community satisfaction کتنی رہی؟

پھر سالانہ impact report جاری کی جائے۔

Funding کا ماڈل

Community institution کسی ایک wealthy شخص یا ایک political organisation کے پیسے پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔

اس کا funding model diversified ہونا چاہیے:

1. Membership fees

مثلاً سالانہ €20–€50۔

2. Small monthly donations

مثلاً €5، €10 یا €20۔

3. Professional donations

زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد voluntary contribution دیں۔

4. Community fundraising

مخصوص projects کے لیے۔

5. Grants

مختلف ممالک اور local authorities کے community/integration programmes سے eligible funding حاصل کی جاسکتی ہے۔

EU میں migrant organisations کی capacity-building، participation اور local partnerships کے لیے funding mechanisms موجود ہیں۔

امریکہ میں بھی community-based organisations کے لیے مختلف capacity-building اور integration grant models استعمال ہوتے رہے ہیں۔

اصل اصول یہ ہونا چاہیے:

پیسہ transparent ہو، donor organisation کو control نہ کرے، اور ہر expenditure documented ہو۔
Politics سے Institutional Firewall

یہ پورے منصوبے کا سب سے اہم حصہ ہے۔

Constitution میں واضح لکھا جائے:

Community organisation:

– کسی سیاسی جماعت کی ذیلی تنظیم نہیں ہوگی۔
– کسی سیاسی شخصیت کی personal organisation نہیں ہوگی۔
– community resources کسی سیاسی campaign کے لیے استعمال نہیں ہوں گے۔
– کسی سیاسی گروہ کو organisational control نہیں دیا جائے گا۔
– ہر بلوچ کو برابر membership rights حاصل ہوں گے۔
– political disagreement membership کا معیار نہیں ہوگا۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ community members کو اپنی سیاسی رائے رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

فرد سیاسی ہوسکتا ہے، ادارہ community-based رہے گا۔

یہ distinction بہت ضروری ہے۔

اختلاف کا حل کیسے ہوگا؟

ہر organisation میں اختلاف ہوگا۔

اصل کامیابی اختلاف ختم کرنے میں نہیں بلکہ disagreement management میں ہے۔

اس لیے:

Independent Mediation Committee

بنائی جائے۔

کسی تنازعے میں:

1. دونوں فریق سنے جائیں۔
2. evidence لیا جائے۔
3. شخصی حملے ممنوع ہوں۔
4. فیصلہ written rules کے مطابق ہو۔
5. appeal mechanism موجود ہو۔

یعنی:

Person-based politics → Rule-based governance

یہ تبدیلی ناگزیر ہے۔

16۔ Leadership Model

ایک بہترین model یہ ہوسکتا ہے:

General Assembly

تمام registered members۔

Board of Trustees / Directors

منتخب governing body۔

Executive Team

روزمرہ administration۔

Professional Departments

Education
Youth
Women
Welfare
Culture
Professional Network
Digital Media
Finance
Research

Local Chapters

مقامی سطح پر عملی کام۔

اس model میں President یا Chairperson بھی صرف ایک حصہ ہوگا، پوری organisation نہیں

“Community First” Culture

اس ادارے کی سب سے بڑی اخلاقی بنیاد ہونی چاہیے:

«پہلے کمیونٹی، پھر تنظیم؛ پہلے ادارہ، پھر شخصیت؛ پہلے خدمت، پھر تشہیر۔»

اگر کسی project میں 100 افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو اسے اس لیے ختم نہیں کیا جانا چاہیے کہ اسے شروع کرنے والا شخص کسی دوسرے political camp سے تعلق رکھتا ہے۔

یہی maturity ہے۔

بلوچ سیاسی گروہ بندی سے سیکھنے کا سبق

بلوچ سیاسی activism نے مختلف ادوار میں قربانیاں، جدوجہد اور awareness پیدا کی ہے۔ لیکن community development اور political mobilisation دو الگ organisational disciplines ہیں۔

Political organisation کا بنیادی سوال ہوسکتا ہے:

ہم سیاسی مقصد کیسے حاصل کریں؟

Community organisation کا سوال ہونا چاہیے:

ہم اپنے لوگوں کی زندگی کیسے بہتر بنائیں؟

اگر دونوں کو ایک ہی organisation میں ڈال دیا جائے تو community institution سیاسی اختلافات کی زد میں آسکتا ہے۔

اسی لیے سیاسی organisations کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور community institution کو اپنا کام۔

دونوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں؛ دونوں کے functions مختلف ہیں۔

سب سے خطرناک رویہ: “اگر ہمارے ساتھ نہیں تو ہمارے خلاف”

یہ mentality community institution کو تباہ کرسکتی ہے۔

اگر کوئی شخص ایک سیاسی گروپ سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی community service کو صرف سیاسی وابستگی کی بنیاد پر reject کرنا نقصان دہ ہوگا۔

اسی طرح کسی ایک سیاسی گروہ کو community institution پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

Community platform کی membership کا معیار یہ ہونا چاہیے:

کیا آپ community کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں اور community کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں؟

نہ کہ:

آپ کس سیاسی camp سے ہیں؟

نئی نسل کو مختلف ماحول دینا ہوگا

اگر ہم نوجوان نسل کو صرف سیاسی speeches دیں گے تو شاید چند نوجوان سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہوجائیں۔

لیکن اگر ہم انہیں:

– mentorship
– sports
– scholarships
– internships
– career networking
– language
– technology
– cultural education
– entrepreneurship
– leadership training

دیں گے تو ہم ایک پوری نسل تیار کریں گے۔

یہ community building کا زیادہ دیرپا طریقہ ہے۔

ایک عملی پانچ سالہ منصوبہ

سال اول — Research & Foundation

Community mapping
Survey
Constitution
Legal registration
Initial board
Website
Volunteer database
Pilot city

سال دوم — Local Expansion

5–10 local chapters
Youth programme
Women programme
Newcomer support
Scholarship programme

سال سوم — Professionalisation

Professional network
Community welfare fund
Digital platform
Annual impact report
Fundraising system

سال چہارم — International Network

European network
UK network
US network
Joint conferences
Shared database/resource system

سال پنجم — Global Institution

Global assembly
Permanent governance system
Research centre
Cultural archive
Scholarship foundation
Long-term endowment/foundation

کامیابی کو کیسے ناپا جائے؟

صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ:

“ہم نے بڑا پروگرام کیا۔”

بلکہ ہر سال سوال کیا جائے:

– کتنے families registered ہیں؟
– کتنے active volunteers ہیں؟
– کتنے students supported ہیں؟
– کتنے scholarships دی گئیں؟
– کتنے نئے immigrants کو مدد ملی؟
– کتنے professionals network میں شامل ہیں؟
– خواتین کی participation کتنی ہے؟
– youth participation کتنی ہے؟
– annual budget کتنا ہے؟
– administrative cost کتنی ہے؟
– کتنے projects مکمل ہوئے؟
– beneficiaries کی satisfaction کیا ہے؟

یعنی:

Emotion → Data → Evaluation → Improvement

یہی scientific community development ہے۔

سب سے اہم بات: اتحاد کا مطلب Uniformity نہیں

بلوچ community میں سب لوگوں کی political، مذہبی، فکری اور سماجی رائے ایک جیسی نہیں ہوسکتی۔

اور اس کی ضرورت بھی نہیں۔

Unity کا مطلب یہ نہیں کہ سب ایک جیسا سوچیں۔

Unity کا مطلب ہے:

«مختلف خیالات رکھنے کے باوجود مشترکہ community interests پر مل کر کام کرنے کی صلاحیت۔»

ایک مضبوط diaspora کی maturity اسی سے ظاہر ہوتی ہے کہ لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ community institution میں کام کرسکیں۔

مستقبل کا تصور

تصور کریں کہ لندن میں ایک بلوچ خاندان کا بچہ پیدا ہوتا ہے۔

اس کے والدین community network میں registered ہیں۔

بچے کو بلوچ language programme ملتا ہے۔

وہ youth programme میں جاتا ہے۔

University میں اسے بلوچ professional mentor ملتا ہے۔

Scholarship programme سے اسے educational support ملتا ہے۔

بعد میں وہ خود organisation کا volunteer بنتا ہے۔

پھر professional network میں شامل ہوتا ہے۔

اور 20 سال بعد وہ community institution کی leadership سنبھالتا ہے۔

یہ community building ہے۔

نہ کہ صرف ہر چند ماہ بعد ایک political event منعقد کرنا۔

بلوچ diaspora کے سامنے آج اصل چیلنج صرف یہ نہیں کہ بلوچ مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے ہیں۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ:

کیا اس بکھری ہوئی انسانی قوت کو ایک مضبوط institutional network میں تبدیل کیا جاسکتا ہے؟

جواب واضح طور پر ہاں ہے۔

لیکن اس کے لیے ہمیں ایک بنیادی ذہنی تبدیلی درکار ہے:

شخصیت سے ادارے کی طرف، گروہ سے کمیونٹی کی طرف، جذبات سے نظام کی طرف، نعرے سے خدمت کی طرف، اور وقتی سرگرمی سے مستقل institution کی طرف۔

یورپی تجربات سے بھی یہی سبق ملتا ہے کہ migrant participation کے لیے local organisations، community networks، capacity building، partnerships اور structured participation اہم ہیں۔ برطانیہ میں community-led initiatives، local champions اور دو طرفہ integration کو اہم سمجھا گیا ہے۔ امریکہ کے تجربات بھی community organisations، outreach، partnerships اور capacity building کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اس لیے بلوچ diaspora کو بھی ایک ایسے نئے community model کی ضرورت ہے جس میں:

نہ کسی شخصیت کی بالادستی ہو،
نہ کسی سیاسی گروہ کی اجارہ داری،
نہ کسی تنظیم کی ملکیت،
نہ کسی faction کی وفاداری شرط ہو۔

صرف ایک بنیادی شرط ہو:

“آپ بلوچ کمیونٹی کی اجتماعی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں؟ تو آپ اس کمیونٹی کے برابر کے رکن ہیں۔”

اگر یورپ، امریکہ اور برطانیہ میں رہنے والے بلوچ اس اصول پر ایک غیر سیاسی، شفاف، democratic اور professionally managed Global Baloch Community Network قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ صرف ایک organisation نہیں ہوگی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک institutional legacy ہوگی۔

اور شاید بلوچ diaspora کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ اس نے ایک اور سیاسی تنظیم بنائی، بلکہ یہ ہوگی کہ اس نے پہلی بار اختلاف کے باوجود مل کر ایک ایسا ادارہ بنایا جسے کوئی گروہ اپنی ملکیت نہ کہہ سکے۔

کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں، اداروں سے مضبوط ہوتی ہیں۔

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *