“شاید فلسفہ اُن گہری کھائیوں اور اندھی گہرائیوں کو پہچاننے کا نام ہے جو اُس راستے کے دونوں کناروں پر موجود ہوتی ہیں، جس پر عام لوگ نیند کے عالم میں اطمینان سے چلتے رہتے ہیں”
George Sorel
سننے میں آتا ہے کہ لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ، آسان امیدوں کے سہارے اطمینان سے چلتے رہنے کا نام زندگی ہے، اس دور میں بھلا کون پڑھتا ہے وہ بھی اتنی تلخ و مایوس کن باتیںُ ، لیکن میرا یقین ہے کہ سنجیدہ قاری ہر دور میں موجود رہے ہیں ، جنہیں نیند میں اطمینان سے چلنے کی عادت نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ “کمزور کیمپ دراصل ایک طاقتور مکتب ہوتا ہے،” کیونکہ وہاں سیکھنے، خود احتسابی اور حقیقت کو قریب سے سمجھنے کے زیادہ مواقع میسر ہوتے ہیں۔
آج بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے بہت سے اہم سوالات میں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ ریاست کے مقابل ایک کمزور کیمپ ہونے کے باوجود، کیا ہم واقعی ایک ایسے “طاقتور مکتب” میں تبدیل ہو سکے ہیں جہاں فکر، شعور، سیاسی و سماجی بصیرت جنم لے؟ یا پھر ہم بھی رفتہ رفتہ ریاستی طرزِ عمل، طاقتور کیمپ کی عادات، اس کی زبان اور اسی کے رویّے سیکھتے جا رہے ہیں، گویا ہم بھی اُسی مکتب کے پڑھے پلے ہوں۔
طاقتور کیمپ جب طاقت کے خمار میں مبتلا ہوتا ہے تو بنیادی کمزوریاں وقت کے ساتھ ساتھ عیاں ہوتی ہے ، وہ جہاں جاتا ہے خوف و ہراس پھیلا دیتا ہے۔ اس کا نہتے لوگوں سے تعلق اعتماد کا نہیں بلکہ خوف کا بن جاتا ہے۔ لوگوں کی راتوں کی نیندیں چھن جاتی ہیں۔ بندوق کا خمار اس قدر چڑھ جاتا ہے کہ کسی بھی گھر میں گھس جانا، عورتوں کے تقدس اور انسانی حرمت کو پامال کرتے ہوئے لوگوں کو کسی الزام کے تحت اٹھا لینا ایک معمول بن جاتا ہے۔ پھر یا تو انہیں طویل عرصے تک لاپتہ رکھا جاتا ہے یا پیسے کا لین دین ہوتا ہے یا پھر خاموشی سے ختم کر دیا جاتا ہے۔ جب خاندان داد رسی کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں تو اکثر پورے عمل سے لاتعلقی ظاہر کر دی جاتی ہے۔ گویا طاقت کے جبڑوں کو اپنے ہی لوگوں کے خون کی ایسی عادت پڑ چکی ہو کہ انکار بھی ظلم ہی کا تسلسل محسوس ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، کمزور کیمپ اگر واقعی ایک “طاقتور مکتب” کے طور پہ سامنے آتا ہے تو وہ اس درد سے ، غلامی سے ، اپنے لوگوں کے مہر و اپنائیت سے سیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جب کوئی غیر کسی کے گھر میں گھس کر ننگ و ناموس کی پروا کیے بغیر لوگوں کو اٹھا لے جائے تو خاندان کن اذیتوں سے گزرتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ لاپتہ ہونا صرف ایک فرد کی گمشدگی نہیں بلکہ پورے خاندان کی اذیت ہوتی ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جنگ صرف بندوق اٹھانے اور یونیفارم پہننے کا نام نہیں۔ بندوق کے پیچھے ایک فکر اور وردی کے نیچے ایک باغی انسان موجود ہوتا ہے ، رائفلیں اور وردیاں تو طاقتور کے پاس بھی ہیں۔ اگر کمزور کے پاس کوئی حقیقی برتری ہے تو وہ اس کی اقدار، اخلاقی فوقیت، قوم دوستی، سیاسی شعور اور سماجی بصیرت ہے۔ ورنہ بقول شاعر:
“رائفلیں، وردیاں نام اُن کے بھی تھے”
ہم میں اور دشمن میں فرق صرف زبان، لباس یا یونیفارم کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اقدار، رویّوں اور طرزِ عمل کا ہونا چاہیے۔ جب ہم اپنے ہی لوگوں سے تحکمانہ لہجے میں مخاطب ہونے لگتے ہیں، یا کسی الزام کے تحت بغیر انصاف کے کسی کو پابند کرتے ہیں، تو پھر یہ فرق مٹنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ فرق طلوعِ آفتاب کی طرح واضح ہونا چاہیے تاکہ خلقت شہر انصاف کے لیے دربدر نہ پھریں، اپنے بے آس لوگوں کے لیے سفارشیں اور تعلقات نہ ڈھونڈتے رہیں، بلکہ انہیں یہ یقین ہو کہ ان کے اپنے لوگ اقدار کا محور بنیں گے، نہتے لوگوں کے لیے خوف کا سامان نہیں۔
انہیں یہ اعتماد بھی ہونا چاہیے کہ ان کے اپنے لوگ علاقائی، قبائلی یا ذاتی تنازعات میں طاقت کے زور پر فریق نہیں بنیں گے، بلکہ انصاف اور اصول کو ترجیح دیں گے۔
جس طرح جنگ صرف یونیفارم اور ہتھیار کا نام نہیں، اسی طرح آزادی بھی صرف قابض سے زمین چھین لینے کا نام نہیں۔ قومیں صرف زمین کے لیے نہیں لڑتیں بلکہ اپنی اقدار کے لیے بھی لڑتی ہیں۔ اقدار اور رویّوں کا یہی فرق محکومی کے تجربے سے جنم لیتا ہے۔ غلامی گر بار آور ہو تو یہ انسان کو سکھاتی ہے کہ اپنوں سے تعلق کیسے نبھایا جاتا ہے، اختلاف کے باوجود احترام کا رشتہ کیسے قائم رکھا جاتا ہے، اور طاقت کے باوجود انصاف کا دامن کیسے نہیں چھوڑا جاتا۔
لیکن طاقت کے خمار میں یہ فرق چھن جاۓ تو پھر غلامی بانجھ پن کا شکار ہونے لگتی ہیں، فکر رخصت ہونے لگتی ہے، سوال دم توڑنے لگتے ہیں، اور قوم اپنی ہی قربانیوں کے ثمر سے لاتعلق ہوتی چلی جاتی ہےاور آزادی کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔
تاریخ میں قوموں کو یکجا ہونے میں وقت لگتا ہے، لیکن اسی طرح ان کے بکھرنے میں وقت نہیں لگتا یہ نوشتۂ دیوار ہمیں پڑھنا ہوگا اور خوش فہمیوں کے سلسلوں کو طول نہیں دینا ہوگا، وگرنہ بدبختیوں کے سلسلے دراز ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ جو محبت آج ہمارے لوگوں کے سینوں میں ہمارے لیے موجود ہے، وہ ہمارے رویّوں اور فیصلوں پر منحصر ہے کہ کہیں وہی محبت نفرت کے شعلوں میں تبدیل نہ ہو جائے۔
اگر ہمارے رویّے طاقتور کیمپ کی مانند وبا کی طرح پھیلنے لگے تو شاید یہ نسل ہمیں معاف کرے یا نہ کرے، مگر آنے والی نسلوں کے سامنے ہم ضرور مجرم ٹھہریں گے۔
اسی لیے ہر کمزور کیمپ کے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کتنی طاقت ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے مقابل اپنی اخلاقی، فکری اور انسانی برتری اور سب سے بڑھ کر اپنے لوگوں کے لیے انصاف کو کس حد تک محفوظ رکھ پاتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو بقول پاسکل “انصاف متنازع ہوتا ہے، لیکن طاقت فوری طور پر پہچانی جاتی ہے اور اس پر کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ چونکہ ہم انصاف کو طاقتور نہ بنا سکے، اس لیے ہم نے طاقتور کو ہی عادل قرار دے دیا”
Blaise Pascal


Add comment