“جب آپ کی تعریف آپ کو جھوٹ لگنے لگے تو سچ کی کھوج میں نکل جاؤ۔”جے کرشن مورتی
لوگ اکثر حسین تصورات کے سہارے زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔ وہ انہی تصورات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے لڑتے ہیں، انہی کے بل بوتے پر جدوجہد کرتے ہیں، آزادی، انقلاب، محبت یا نجات کے لیے لکھتے ہیں، فلسفیانہ نظام آشکار کرتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں، یہاں تک کہ جان تک نچھاور کر دیتے ہیں۔ دراصل انسان انہی تصورات میں زندگی کی معنویت پاتا ہے، وگرنہ بے معنی، بے مقصد و بے عمل زندگی گزارنے کے لیے ہزار ہا جواز تراشے جا سکتے ہیں۔
یقیناً یہ تصورات افلاطون کے تصورِ مُثُل کی طرح زماں و مکاں سے ماورا نہیں ہوتے اور نہ ہی تاریخ سے بے نیاز کسی یوٹوپیائی دنیا میں معلق رہتے ہیں، بلکہ ان کے ساتھ زمین، سماج، تاریخ، جہد، عہد، سیاست اور مزاحمت بندھے ہوئے ہوتے ہیں، جس سے تاریخی تشکیل کے ساتھ ساتھ ہمارا باطن بھی پلٹتا پھولتا ہے اور اپنی معنویت خود اپنے آپ پر آشکار کرتا ہے۔
ہماری جدوجہد، جنگ، سیاست، مزاحمت، لکھت اور عمل ایک طرح سے اسی باطن کا عکس ہوتے ہیں، یعنی ایک ایسی روح کا جو زمین و زمین زادوں سے جڑی ہوتی ہے۔ اس روح کا ربط “قلم و ہتھیار” سے اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ اس کا عکس نہ صرف ہر جا دکھائی دینے لگتا ہے بلکہ رفتہ رفتہ اس تصور پر چھا جاتا ہے جسے تاریخی و اجتماعی تشکیل نے جنم دیا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس تصور پر نہ صرف مر مٹنے کو تیار ہوتے ہیں بلکہ قلم کی نوک سے لے کر بندوق کی نوک تک، اسی تصور میں زندگی، حرکت، حسن اور رنگ بھر دیتے ہیں۔ دراصل یہی ہماری روح کا کمال ہوتا ہے، کیونکہ آنے والی نسلیں اسی تصور کے سائے میں زندگی بسر کرنے لگتی ہیں۔
کسی بھی تحریک کے لیے اس کی حقیقت، یا دوسرے الفاظ میں حقیقی صورتِ حال، اپنی جگہ؛ لیکن عوام میں اس کا امیج اکثر حقیقی صورتِ حال سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ حقیقت عموماً پیچیدہ ہوتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں تصور میں آسانیاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ اس لیے، بقول لاکان، “حقیقت میں خلا پایا جاتا ہے جسے فکشن سے پُر کیا جاتا ہے۔”
ہم فی الحال اس خلا کو قربانی کے خون سے پُر کرنے کی بے جا کوشش کر رہے ہیں۔ اسی لیے ہماری کوتاہیوں اور نااہلیوں کے باوجود جو تصور یا امیج ہمارے لیے قوم میں پایا جاتا ہے، تاحال کسی حد تک خوبصورت ضرور ہے۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ یہ خوبصورتی قربانیوں کی بدولت کب تک ہماری حقیقی صورتِ حال کی پیچیدگیوں اور المیوں کو چھپا سکتی ہے؟
ہمیں ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ تصور جس قدر خوبصورت ہو سکتا ہے، کبھی کبھار اتنی ہی بھیانک صورت بھی اختیار کر لیتا ہے۔ تاریخ میں بعض انقلابات کے تصورات ایک وقت کے بعد دہشت اور وحشت کے نام سے بھی پکارے جانے لگے، جہاں جن تصورات میں “قلم و بندوق” زندگی و رنگ بکھیرنے کے بجائے اپنے لوگوں کے لیے خوف و وحشت بکھیرنے لگے، وہاں اخماتووا جیسی شاعرہ جنم لیتی ہے، جو کسی اجنبی آسمان کے نیچے نہیں، نہ ہی کسی اجنبی پرچم کے سائے میں، بلکہ اپنے دکھ کو اپنی ہی وطن کی زمین پر، اپنے ہی پرچم کے سائے میں جھیلتی ہے؛ اپنے ہی آسمان کے نیچے اپنوں کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔ جو بعد میں تاریخ میں پوری قوم کی یادداشت بن جاتی ہے۔
اس کے بعد تصور، وہ تصور نہیں رہتا اور نہ تصویر، وہ تصویر رہتی ہے جس میں کبھی زندگی کے حسن اور رنگ بھرے گئے تھے، بالکل آسکر وائلڈ کے اس کردار ڈورین گرے کی تصویر کی طرح، جس میں مصور باسل ہالورڈ نے زندگی اور رنگ اس قدر بھر دیے کہ ڈورین گرے اپنے ہی حسن کا اسیر ہو کر بالآخر اسی مصور کو قتل کر دیتا ہے جس نے کبھی اسے اس کے حسن کا عکس عطا کیا تھا۔
دراصل اس کردار کو ایک پاگل پن بھری خواہش ستاتی ہے کہ “وہ خود ہمیشہ جوان رہے اور تصویر بوڑھی ہوتی جائے، اس کا اپنا حسن کبھی متاثر نہ ہو، جبکہ کینوس پر بنا چہرہ اس کے جذبات اور گناہوں کا بوجھ اٹھائے، تصویر پر دکھ اور فکر کی لکیریں پڑتی جائیں اور وہ خود اپنی اس عمر کی نازک تازگی اور حسن کو ہمیشہ محفوظ رکھے۔”
آج ہم انفرادی طور پر اپنے آپ کو ڈورین گرے کے انجام سے بے خبر، اسی کی طرح تاریخ کے صفحات میں محفوظ، جوان اور حسین دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے اپنے انفرادی ہیرو ازم کو کبھی متاثر نہیں ہونے دیتے، جبکہ اس کے مقابلے میں تاریخی تشکیل میں جو ہماری ایک اجتماعی تصویر بنی ہوئی ہے، وہی تصویر جس پر لوگ مر مٹنے کو تیار ہیں، وہی تصویر جس پر آنے والی نسلیں زندگی بسر کرنے کا خواب دیکھتی آ رہی ہیں، ہم اپنی نرگسیت، نااتفاقی اور اپنی طاقت کے خمار میں اپنے ہی لوگوں کے لیے وحشت اور خوف کا بوجھ اسی تصویر پر ڈالتے جا رہے ہیں۔
یہاں تک کہ ایک زمانے میں ہمارے لیے پارلیمانی و غیر پارلیمانی تصور کی ایک واضح اہمیت تھی۔ اب اسے ہماری بالغ نظری کہیں یا فکری پختگی کہ “گڈ طالبان و بیڈ طالبان” کی طرح “گڈ ڈیتھ اسکواڈ و بیڈ ڈیتھ اسکواڈ” کا تاثر بڑی تیزی سے عوام میں ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یعنی “سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔”
ریکروٹمنٹ کی خستہ حالی اپنی جگہ، جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عام بلوچ کے ساتھ برتاؤ کا الم و رنج اپنی جگہ، مگر اس پوری صورتِ حال میں شاید المیہ یہ ہے کہ ہماری اجتماعی تصویر، جس میں مزاحمت و زندگی، آزادی، حسن و عشق کے رنگ بھرے ہوئے ہیں، کہیں ہم خود اسی تصویر میں نرگسیت اور بندوق کے خمار میں خوف و وحشت کی گہری لکیریں نقش نہ کر رہے ہوں۔
ہمارا خمار سلامت رہے، ہماری نرگسیت پر خدا کرے کہ کبھی آنچ نہ آئے، اور ہمیں اپنی تعریفیں و عظمت کے گُن کبھی جھوٹے بھی نہ لگیں، مگر پھر بھی اس دوڑ دھوپ میں ہمیں کبھی ٹھہر کر حوصلے کے ساتھ سوچنا تو ہوگا کہ یہ تصویر کس قدر بھیانک صورت اختیار کر سکتی ہے؟
جس دن کوئی پکاسو جیسا شاہکار ہماری اجتماعی تصویر کو گرنیکا (اسپین کے شہر کا تباہ حال منظر، جسے جرمن فضائیہ نے تباہ کیا تھا) کی طرح بنا کر پیش کرے گا، تو وہی صورتِ حال نہ بن جائے جو تب بنی تھی، جب ایک جرمن افسر نے گرنیکا کے تباہ حال منظر کو ایک شاہکار سمجھ کر حیرت سے پکاسو سے پوچھا:
“Did you do this?”
تو پکاسو نے جواب دیا:
“No, you did this!”
پکاسو کا یہ جواب ہمارے لیے نوشتۂ دیوار ہے، کیونکہ کسی بھی تحریک کے لیے اپنوں میں اس کا امیج ہی اس کا آخری مورچہ ہوتا ہے۔


Add comment