ہم مرنے کے لیے نہیں بلکہ مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں”

خروشیف

تاریخ میں ایک ایسا لمحہ بھی آیا جب فیڈل کاسترو نے سوویت رہنما نکیتا خروشیف کو خط لکھ کر یہ موقف اختیار کیا کہ امریکہ کے کیوبا پر حملہ کرنے سے پہلے سوویت یونین کو امریکہ پر حملہ کرنا چاہیے۔ جوابی خط میں خروشیف کا یہ کہنا کہ “ہم مرنے کے لیے نہیں بلکہ مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں” فقط ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ سیاسی و عسکری حکمتِ عملی کا وہ اظہار تھا جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔

تاریخ صرف واقعات کو ترتیب دینے یا انہیں مرتب کرنے کا نام نہیں، بلکہ حقائق کو درست طور پر سمجھنے، ان کا تجزیہ کرنے اور ان سے کسی نتیجے تک پہنچنے کا نام ہے۔ یہاں تاریخ کے ساتھ گلیمر، لسانیات اور لٹریچر کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہرحال ایک الگ داستان ہے۔ تاہم، فلسفۂ تاریخ ہمیں ایک قدم آگے لے جاتا ہے کہ جس طرح ہم بطور عامل تاریخ کی تشکیل کر رہے ہوتے ہیں، اسی طرح تاریخ بھی مسلسل ہماری تشکیل کر رہی ہوتی ہے۔ یہ تعلق یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ، یعنی جدلیاتی ہے۔ آسان الفاظ میں، ایک طرف ہم تاریخ کو بنا رہے ہوتے ہیں، دوسری طرف تاریخ ہمیں بنا رہی ہوتی ہے۔ یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخی تشکیل سے مراد کسی بھی قوم کی خود شناسی اور اسی بنیاد پر پوری تاریخی دھارے میں فکرِ آزادی کی ترقی ہے۔

اس دوطرفہ تشکیل کے عمل میں “تاریخی زاویۂ نگاہ” کی اپنی ایک الگ اور بنیادی اہمیت ہے۔ اسی تاریخی زاویۂ نگاہ کی بنیاد پر ہم بطور قوم اپنی ترجیحات دیکھتے، پرکھتے اور ان پر غوروفکر کرکے اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہیں، اور یہی ترجیحات ہماری سمت کا تعین کرتی ہیں۔ یعنی ہمارا تاریخی شعور یا تاریخی زاویۂ نگاہ صرف ماضی کے واقعات کو پڑھنے، لکھنے اور یاد کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان واقعات کو سمجھ کر حال کے فیصلے کرنے اور مستقبل کا تعین کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔

کسی بھی قومی تحریک یا جدوجہد کے لیے یہ عمل اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ اس کی سیاسی و فکری بصیرت، ترجیحات اور حکمتِ عملی بڑی حد تک اس کے تاریخی شعور اور زاویۂ نگاہ کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ یعنی ہم ایک “پیراڈائم” (تاریخی زاویۂ نگاہ) میں تاریخ کا سفر طے کر رہے ہوتے ہیں، جہاں آنے والی نسلوں کے لیے ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو منزل کی جانب “لینڈ مارکس” (چیدہ نشانات) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس طرح ہر قوم اور ہر تہذیب کا اپنا اپنا تاریخی پیراڈائم ہوتا ہے۔ “پیراڈائم سے مراد فکری، سماجی اور سیاسی سانچہ ہے، جس کے ذریعے کوئی قوم اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو سمجھتی ہے۔” تاریخ ہمیشہ مسلسل اور سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی، بلکہ مخصوص پیراڈائم میں کبھی کبھار ایسے مسائل جنم لے لیتے ہیں یا ایک فکری خلا پیدا ہوتا ہے جو اس پیراڈائم کی حدود کو مسلسل چیلنج کرتا رہتا ہے۔ یہی خلا دراصل تاریخی حرکت کا سبب بنتا رہتا ہے۔

بلوچ تاریخی زاویۂ نگاہ کی تشکیل میں رزمیہ شاعری، داستانوں اور روایات نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے بلوچ پیراڈائم میں جذبات کو عقل پر، موت کو حیات پر اور قربانی کو فہم پر فوقیت حاصل ہوتی گئی۔ ان ذرائع سے جذبۂ قربانی کو فلسفی ایلن بدیو کے فلسفۂ قربانی سے بڑھ چڑھ کر سراہا گیا، جس کے لیے جذبۂ قربانی اور وفاداری کی اپنی ایک اہمیت ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جذبۂ قربانی عظیم ترین جذبوں میں سے ایک جذبہ ہے، لیکن ہماری لاعلمی یا کوتاہ فہمی کی وجہ سے ہم اسی بلوچ تاریخی زاویۂ نگاہ (پیراڈائم) میں رہ کر غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے کہ محض سروں کی قربانی دے کر آزادی کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اور نواب مری کا یہ قول کسی حد تک فراموش کر گئے کہ: “سروں کی قربانی دیتے جاؤ، لیکن سوچ سمجھ کر۔”

اسٹیفن ہولگیٹ کے بقول، ہیگل کے ہاں عالمی تاریخ “مقتل گاہ/قربان گاہ” ہے، “جہاں قوموں کی خوشیاں، ریاستوں کی دانشمندی اور لوگوں کی نیکیاں تاریخ کے بڑے عمل میں قربان ہوتی ہیں، لیکن ان قربانیوں کے تناظر میں ہیگل یہ بنیادی سوال بھی اٹھاتا ہے کہ تاریخ میں حقیقی ترقی کہاں واقع ہوئی ہے؟” جہاں تاریخ کو حرکت ملتی ہے، کیونکہ جنگیں صرف مرنے کے لیے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ کسی سیاسی مقصد کا حصول اور تاریخی دھارے کو اپنے حق میں بدلنا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کتنے سر محض قربان ہوئے، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ ان قربانیوں نے تاریخ میں خودشناسی اور فکری آزادی، یعنی تاریخ کی تشکیل میں، کیا کردار ادا کیا؟

اسے تاریخ کا المیہ کہیں یا فکری کوتاہی کی انتہا، درحقیقت ہم “سر” کے مقابلے میں “دماغ” کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔ اپنے سنگتوں کی سیاسی، فکری حتیٰ کہ عسکری تربیت کیے بغیر انہیں محض “سروں” تک محدود کرکے، بدقسمتی سے، قربان کرتے جا رہے ہیں اور وہ بھی جذبۂ قربانی سے سرشار ہو کر نچھاور ہو رہے ہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہمارا ایک باشعور اور تربیت یافتہ سنگت دشمن کے کئی سپاہیوں پر بھاری ہو سکتا ہے، اور بدقسمتی سے ہم یہ بھی بھول گئے کہ ہمارا ایک سنگت ایلن بدیو یا کسی بھی مفکر سے بڑھ کر فکری طور پر تاریخ کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

جس طرح دشمن کے لیے اس کے سپاہی محض مادی شے ہیں، آج ہم بھی تاریخ کے سامنے جواب دہ ہیں کہ کہیں ہم بھی اپنے سنگتوں کو محض مادی وسیلہ تو نہیں سمجھنے لگے؟ اگر ہمارے سنگت قومی تحریک کے لیے محض مادی وسیلہ بنتے گئے اور صرف سروں کی قربانی دیتے گئے، تو پھر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قیادت خود بھی کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی مرحلے پر، کسی بھی بڑی بیرونی قوت کے لیے مادی وسیلہ بن جاتی ہے۔

یہ سوال سیاسی و عسکری قیادت کو بار بار اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے سنگتوں کی قربانی کو تاریخ کی تشکیل کا ذریعہ بنا رہے ہیں، یا انہیں خود تاریخ کے مقتل گاہ میں محض ایک مادی وسیلے کے طور پر پیش کر رہے ہیں؟ کیونکہ بقولِ ہیگل، تاریخ میں حقیقی ترقی کے بغیر “قوموں کی خوشیاں، ریاستوں کی دانشمندی اور لوگوں کی نیکیاں تاریخ کے مقتل گاہ میں قربان ہوتی ہیں۔”

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *