بیسویں صدی کے اوائل میں جب یورپ ایک عالمی جنگ کی راکھ سے نکل کر انقلابات اور ردِّ انقلابات کے بھنور میں پھنسا ہوا تھا، اٹلی کے ایک دبلے پتلے، بیمار اور کبڑے پن کا شکار نوجوان نے ایک ایسا فکری سرمایہ تخلیق کیا جو آج ایک صدی بعد بھی دنیا بھر کے سماجی مفکرین، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ یہ نوجوان انتونیو گرامچی تھا، سارڈینیا کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا، بچپن میں شدید ریڑھ کی ہڈی کے عارضے کا شکار، مگر ذہانت اور مطالعے کی بدولت ٹیورین یونیورسٹی تک پہنچنے والا ایک ایسا کردار، جس نے صحافت، سیاست اور فلسفے کو یکجا کر کے بیسویں صدی کی سب سے زرخیز مارکسی فکر کو جنم دیا۔ گرامچی نے اطالوی کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی، مزدوروں کی کاؤنسل تحریک میں عملی کردار ادا کیا، مگر ۱۹۲۶ء میں مسولینی کی فاشسٹ حکومت نے اسے گرفتار کر لیا۔ فاشسٹ سرکاری وکیل نے عدالت میں جو الفاظ کہے، وہ تاریخ کا حصہ بن گئے: “ہمیں اس دماغ کو بیس سال تک کام کرنے سے روکنا ہے۔” مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ جیل کی تنہائی، جسمانی تکلیف اور سنسرشپ کے باوجود گرامچی نے وہیں قید کی کوٹھڑی میں اپنی زندگی کا سب سے اہم کام انجام دیا: وہ تیس سے زائد نوٹ بکس جنہیں دنیا آج پرزن نوٹ بکس کے نام سے جانتی ہے۔ ۱۹۳۷ء میں رہائی کے چند دن بعد ہی وہ چوالیس برس کی عمر میں انتقال کر گیا، مگر اس کی تحریریں اس کے مرنے کے بعد ہی حقیقی معنوں میں زندہ ہوئیں اور بیسویں صدی کی سیاسی فکر پر گہرے نقوش چھوڑ گئیں۔

گرامچی کی تاریخی اہمیت اس سوال میں پنہاں ہے جو اس نے اپنے پیشروؤں سے مختلف انداز میں پوچھا: مغربی سرمایہ دارانہ ممالک میں، جہاں معاشی بحران بھی موجود تھا اور طبقاتی استحصال بھی شدید، آخر انقلابِ روس کی طرح انقلاب کیوں برپا نہ ہو سکا؟ روایتی مارکسی فکر اس سوال کا جواب محض معاشی بنیادوں میں تلاش کرتی تھی، مگر گرامچی نے استدلال کیا کہ سرمایہ دارانہ نظام کی بقا کا اصل راز محض پولیس اور فوج کے جبر میں نہیں، بلکہ اس رضامندی میں پنہاں ہے جو حکمران طبقہ عوام کے ذہنوں میں پیدا کرتا ہے۔ اس نے اس مظہر کو “ہیجمنی” کا نام دیا، یعنی ایسی نظریاتی بالادستی جس کے تحت حکمران طبقے کے مفادات کو پورے معاشرے کا مشترکہ مفاد باور کرایا جاتا ہے اور موجودہ نظام کو فطری، لازمی اور ناقابلِ تبدیل ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ رضامندی اسکول، میڈیا، مذہبی ادارے، خاندان اور ثقافتی سرگرمیوں کے اس وسیع میدان میں تیار ہوتی ہے جسے گرامچی نے سِول سوسائٹی کا نام دیا، اور جو ریاست کے براہِ راست جبری ڈھانچے سے الگ، مگر اس کا معاون میدان ہے۔

اسی تناظر میں گرامچی نے دانشور کے کردار پر نظرِ ثانی کی اور روایتی تصور کو الٹ دیا کہ دانشور کوئی خاص، منفرد اور “غیر جانب دار” مخلوق ہے۔ اس کے نزدیک ہر انسان بنیادی طور پر سوچنے، تجزیہ کرنے اور رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر معاشرے میں ہر شخص دانشور کا سماجی فرض ادا نہیں کرتا۔ گرامچی نے دانشوروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک طرف روایتی دانشور تھے: استاد، عالمِ دین، ادیب، فلسفی، جو خود کو طبقاتی وابستگیوں سے بالاتر اور تاریخ کا مستقل نمائندہ سمجھتے تھے، مگر حقیقتاً وہ ماضی کے کسی نظام کی باقیات تھے، جو لاشعوری طور پر موجودہ اقتدار کی خدمت کرتے رہتے تھے۔ دوسری طرف اس نے ایک نیا اور انقلابی تصور پیش کیا: آرگینک یا نامیاتی دانشور، یعنی وہ فرد جو کسی مخصوص طبقے کے اندر سے، اسی طبقے کے روزمرہ تجربے، مشقت اور جدوجہد سے جنم لیتا ہے۔ گرامچی کا کہنا تھا کہ ہر نیا سماجی طبقہ جو تاریخ کے میدان میں ابھرتا ہے، اپنے ساتھ اپنے دانشوروں کی ایک صف بھی نامیاتی طور پر پیدا کرتا ہے، جیسے صنعتی سرمایہ داری نے انجینئر، منیجر اور معیشت دان پیدا کیے۔ اسی طرح مزدور طبقے کو بھی اپنے آرگینک دانشوروں کی ضرورت ہے: وہ ٹریڈ یونین رہنما، سیاسی کارکن اور نظریاتی رہنما جو مزدور کے بکھرے ہوئے تجربے کو ایک مربوط، منظم اور تنقیدی شعور میں ڈھال سکیں۔

یہی نکتہ گرامچی کی فکر کا مرکزی محور ہے: عام آدمی کا شعور، جسے اس نے “عام فہم” کہا، فطری طور پر بکھرا، متضاد اور نیم شعوری ہوتا ہے۔ ایک مزدور بیک وقت اپنے استحصال کو اپنی کھال میں محسوس بھی کرتا ہے اور روایت، مذہب اور میڈیا کے زیرِ اثر حکمران طبقے کے نظریات کو فطری اور ناگزیر بھی سمجھ لیتا ہے۔ آرگینک دانشور کا اصل کام یہی ہے کہ وہ اس تضاد بھرے شعور میں سے ترقی پسند عناصر کو نکالے، انہیں مربوط کرے، اور عوام کو ایک تنقیدی اور منظم شعور کی طرف لے جائے، جسے گرامچی نے “اچھا فہم” کہا۔ یہ عمل کوئی وقتی واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل، صبر آزما جدوجہد ہے، جسے گرامچی نے “جنگِ پوزیشن” کا نام دیا، یعنی سِول سوسائٹی کے ہر ادارے، تعلیم، صحافت، ادب اور فن میں بتدریج نظریاتی برتری حاصل کرنے کی حکمتِ عملی، بالمقابل “جنگِ حرکت” کے، جو روس جیسے ممالک میں ریاستی مرکز پر براہِ راست اور فوری حملے سے کامیاب ہوئی تھی۔ گرامچی کا استدلال تھا کہ مغربی معاشروں کی مضبوط اور پیچیدہ سِول سوسائٹی، جسے اس نے قلعوں اور خندقوں کے جال سے تشبیہ دی، محض ریاستی اقتدار پر قبضے سے تسخیر نہیں ہو سکتی؛ اسے پہلے فکری اور اخلاقی میدان میں شکست دینا ضروری ہے۔

یوں دانشور، بالخصوص آرگینک دانشور، گرامچی کی فکر میں محض ایک مبصر یا تجزیہ نگار نہیں، بلکہ عملی طور پر ایک ہتھیار کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ وہ نظریاتی ہتھیار کے طور پر حکمران طبقے کی “قدرتی” دکھائی دینے والی حقیقتوں کو بے نقاب کرتا ہے، تنظیمی ہتھیار کے طور پر بکھرے ہوئے عوام کو ایک منظم قوت میں ڈھالتا ہے۔ اسی لیے گرامچی سیاسی جماعت کو بذاتِ خود ایک “اجتماعی دانشور” قرار دیتا ہے، اور تعلیمی و ثقافتی ہتھیار کے طور پر متبادل شعور کو نسل در نسل منتقل کرتا ہے۔ مگر یہ ہتھیار یک طرفہ نہیں۔ جس طرح مظلوم طبقے کے آرگینک دانشور کاؤنٹر ہیجمنی کی تعمیر کرتے ہیں، اسی طرح حکمران طبقہ بھی اپنے آرگینک دانشور، کارپوریٹ تجزیہ کار، تھنک ٹینک کے ماہرین اور سرکاری میڈیا کے چہرے پیدا کرتا ہے، جو موجودہ نظام کو مسلسل جواز فراہم کرتے رہتے ہیں۔ فکری میدان، گویا، ایک مستقل میدانِ جنگ ہے، جہاں دونوں اطراف اپنے اپنے دانشور بطورِ ہتھیار تیار کرتے ہیں۔

آج سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے دور میں، جہاں معلومات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور پیچیدہ ہو چکی ہے، گرامچی کا یہ فریم ورک اور بھی معنی خیز ہو گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں، جہاں نوآبادیاتی اور مابعدِ نوآبادیاتی طاقت کے ڈھانچے اب بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں، آرگینک دانشور کا کردار مقامی زبانوں، ثقافتوں اور عوامی تحریکوں سے جڑے ہوئے کارکن مفکرین کی صورت میں نظر آتا ہے، جو اکیڈمیا کی مشکل اصطلاحات کے بجائے عوام کی اپنی زبان میں شعور بیدار کرتے ہیں۔ اگر ہم بابا مری کی مثال لیں تو بابا مری کی فکر کو اسی زاویے سے دیکھا جائے تو ان کی اہمیت اس بات میں ہے کہ انہوں نے بلوچ سماج میں قومی شناخت، سیاسی خودمختاری اور وسائل پر اختیار جیسے سوالات کو مرکزی سیاسی مباحث میں تبدیل کیا۔ ان کی دانشوری کا تعلق محض اقتدار حاصل کرنے سے نہیں، بلکہ اس شعور سے تھا جو محکوم گروہ کو اپنی تاریخ، محرومی اور سیاسی طاقت کو سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یوں نواب مری کو گرامچی کے تصور میں ایک ایسے آرگینک دانشور کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جو اپنے سماج کے تجربے سے فکر پیدا کرتا ہے، اس فکر کو سیاسی جدوجہد سے جوڑتا ہے اور بالادست بیانیے کے مقابل ایک متبادل تاریخی و سیاسی شعور کی تعمیر کی کوشش کرتا ہے۔

اس پورے پس منظر میں ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کامن سینس (عام فہم) صرف حقیقت کو دیکھنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ بعض اوقات ریاست، ادارہ یا طاقت خود ہماری فہم کو استعمال کرکے ہماری نظر کو مخصوص سمت موڑتی ہے، یا ہمیں کسی خاص سمت دھکیلتی ہے، جسے ہم فوری عمل اور فوری نتیجے کی صورت میں بڑی کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔

ہمیں اپنی پالیسیز اور اعمال کو سیاق و سباق پر مکمل طور پر انحصار کرکے، یا سیاق و سباق سے مکمل دستبردار ہوکر نہیں دیکھنا چاہیے۔

گرامچی کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ سماجی تبدیلی محض معاشی بحرانوں یا ریاستی اقتدار پر قبضے سے نہیں آتی، بلکہ اس کے لیے شعور کی سطح پر ایک طویل اور منظم جدوجہد درکار ہے، اور یہ جدوجہد دانشور کے بغیر ادھوری ہے۔ جیسا کہ اس نے خود جیل کی کوٹھڑی میں لکھا تھا: “پرانی دنیا مر رہی ہے اور نئی دنیا ابھی جنم لینے کو تیار نہیں،” اور اسی ابہام اور بحران کے وقفے میں آرگینک دانشور کی ذمہ داری سب سے بڑھ جاتی ہے: نئی دنیا کے خدوخال کو شعوری طور پر تراشنا، اور اسے عوامی فہم کا حصہ بنانا۔

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *