یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں، یعنی آج سے تقریباً چھپن برس قبل، نیپ کی قیادت نے بلوچستان میں ایک مضبوط اور منظم قوم پرست تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک نے بلوچستان کے مختلف طبقاتِ فکر، قوم پرست کارکنوں اور سیاسی شعور رکھنے والے افراد کو ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ نیپ نے بلوچستان کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق کی آواز مؤثر انداز میں بلند کی اور جمہوری و آئینی سیاست کے ذریعے عوامی نمائندگی کا ایک قابلِ عمل راستہ فراہم کیا۔

بلوچستان میں قوم پرست سیاسی شعور کو فروغ دینے میں نیپ نے تاریخی کردار ادا کیا۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں قوم پرست سیاست ایک مضبوط قومی تحریک کی صورت میں ابھر کر سامنے آئی، اور نیپ کی منظم جمہوری جدوجہد پاکستان کی دیگر قومیتوں اور سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوئی۔

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ نیپ کی قیادت کے اندر اختلافات، شخصی رقابتیں، گروہی تقسیم، قبائلی تعصبات اور انا پرستی نے اس منظم قومی تحریک کی اجتماعی قیادت، فکری ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ قوم پرست قیادت کے درمیان پیدا ہونے والی اس کشمکش نے نہ صرف تحریک کی سیاسی قوت کو کمزور کیا بلکہ مخالف قوتوں کو بھی قوم پرست سیاست کا مقابلہ کرنے اور اسے تقسیم کرنے کے مواقع فراہم کیے۔

اگر ایک طرف نیپ کی خدمات بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا روشن باب ہیں، تو دوسری طرف اس کی قیادت کے مابین مسلسل اختلافات، باہمی محاذ آرائی اور ایک دوسرے کی سیاسی حیثیت کو تسلیم نہ کرنے کے رویوں نے قوم پرست سیاست کو تقسیم در تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ گزشتہ چھپن برسوں کے دوران یہ سلسلہ مختلف شکلوں میں جاری رہا اور آج بھی قوم پرست سیاست اسی انتشار کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

نیپ کی قیادت کی ناچاقیوں اور بعد ازاں وجود میں آنے والے مختلف دھڑوں نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ہر گروہ نے اپنی الگ سیاسی شناخت، قیادت اور بیانیہ اختیار کیا۔ عوام کو اجتماعی قیادت کے بجائے شخصیات کے گرد منظم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعض حلقوں نے سخت گیر نعروں کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض نے نرم اور جمہوری انداز کو ترجیح دی، لیکن مجموعی طور پر قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمتِ عملی کا فقدان نمایاں رہا۔

تاریخ گواہ ہے کہ تحریکیں صرف شخصیات کے سحر سے نہیں بلکہ اجتماعی قیادت، ادارہ جاتی استحکام اور باہمی اتحاد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ جب قیادت ذاتی مفادات، شخصیت پرستی، قبائلی تعصبات اور انا کی سیاست میں الجھ جائے تو تحریکیں کمزور اور منتشر ہو جاتی ہیں۔ بلوچ قوم پرست سیاست کو بھی اسی چیلنج کا سامنا رہا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم پرست سیاسی قیادت ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھے، باہمی احترام اور سیاسی برداشت کو فروغ دے، نئی نسل کو قیادت میں شریک کرے اور قومی مفادات کو شخصی و گروہی مفادات پر ترجیح دے۔ بصورتِ دیگر، انتشار کا یہ سلسلہ بلوچستان کے قومی مفادات اور عوامی سیاسی جدوجہد کو مزید نقصان پہنچاتا رہے گا۔

نیپ کی تاریخ کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ سیاسی و جمہوری تحریکوں کی کامیابی صرف عوامی حمایت یا مضبوط نعروں پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ قیادت کی بصیرت، سیاسی برداشت اور تنظیمی استحکام بھی اس میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے قوم پرست سیاست میں کئی مواقع پر اداروں کے بجائے شخصیات کو فوقیت دی گئی اور اجتماعی دانش کے بجائے انفرادی فیصلے غالب رہے۔ اس رویے نے نہ صرف تحریک کی سیاسی قوت کو محدود کیا بلکہ کارکنوں اور ہمدردوں میں بھی مایوسی کو جنم دیا۔

یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سیاست کوئی حرفِ آخر نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقا پذیر عمل ہے۔ سیاست میں مستقل دوستی یا دشمنی نہیں ہوتی۔ حالات، قومی مفادات، عوامی دباؤ اور سیاسی ضروریات اکثر پرانی صف بندیوں کو بدل دیتے ہیں۔ کئی بار سخت مخالفین بھی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں اور مختلف ادوار میں ایک دوسرے پر شدید تنقید کرنے والی جماعتیں بعد میں اتحاد یا انضمام کی راہ اختیار کر لیتی ہیں۔

لہٰذا، سیاست میں اختلاف ضرور ہونا چاہیے، لیکن اس حد تک نہیں کہ واپسی اور مفاہمت کے تمام راستے بند ہو جائیں۔ بالغ نظر سیاسی قیادت وہی ہوتی ہے جو اختلافات کے باوجود قومی مفادات کو مقدم رکھے اور مستقبل کے امکانات کے دروازے کھلے رکھے۔

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *