کسی شخص پر حد سے زیادہ اعتماد صرف اس شخص پر اعتماد نہیں ہوتا؛ وقت کے ساتھ یہ اعتماد ایک تصور، ایک سیاسی یقین اور کبھی کبھی پوری جدوجہد کی معنویت کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب کسی شخصیت کو برسوں تک ایک خاص کردار میں پیش کیا جائے اور اس کے گرد اصول، اخلاص، قربانی اور دیانت کی ایک تصویر تعمیر کی جائے، تو ہم اکثر اس شخص کو نہیں بلکہ اس کی بنائی گئی تصویر کو جاننے لگتے ہیں۔
سیاسی رشتوں میں یہ مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ برسوں کی وابستگی انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں وہ کسی شخصیت کے ہر عمل کی وضاحت کرنے لگتا ہے، اس کی غلطیوں کا دفاع کرتا ہے اور مخالفین کی تنقید کو تعصب سمجھ کر رد کر دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مرحلے پر اس شخص کا دفاع صرف ایک فرد کا دفاع نہیں رہتا، بلکہ کہیں نہ کہیں اپنے برسوں پرانے سیاسی یقین کا دفاع بھی بن جاتا ہے۔
پھر اگر ایک دن حقیقت اس تصویر کے برعکس سامنے آ جائے، تو صرف ایک شخص بے نقاب نہیں ہوتا بلکہ ایک پورا ذہنی نظام ہل کر رہ جاتا ہے۔
انسان سوچتا ہے: ’’جس شخص کو میں اتنے برسوں سے جانتا اور سمجھتا رہا، اگر وہ حقیقت میں ایسا تھا ہی نہیں، تو پھر میری پہچان، میرا فیصلہ اور میرا اعتماد کس قدر درست تھے؟‘‘
یہیں سے نفسیاتی طور پر ایک خطرناک مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ گہرے دھوکے کے بعد ذہن مستقبل میں ایسے دھوکوں سے بچنے کے لیے ہر چیز کو زیادہ شک کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ احتیاط رفتہ رفتہ بدگمانی میں بدل سکتی ہے، اور ایک فرد کی حقیقت پورے معاشرے کے بارے میں ہماری رائے کو متاثر کرنے لگتی ہے۔ ایک شخص کی خیانت ہمیں یہ محسوس کرا سکتی ہے کہ شاید سبھی ایسے ہیں۔
لیکن قومی سیاست میں اس کا نقصان اس سے بھی بڑا ہوتا ہے، کیونکہ جب قومی تحریکیں شخصیات کے گرد تشکیل پاتی ہیں، تو ان شخصیات کی کمزوریاں بالآخر تحریک کے اخلاقی ڈھانچے کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
ایک قومی تحریک کا اصل سرمایہ اس کا کوئی ایک رہنما نہیں ہوتا؛ اس کا اصل سرمایہ اس کے اصول، ادارے، سیاسی اخلاقیات اور کارکنوں کا اعتماد ہوتا ہے۔
جب کسی ایک فرد کو تحریک سے بڑا بنا دیا جاتا ہے، تو ادارے آہستہ آہستہ محض رسمی حیثیت اختیار کرنے لگتے ہیں۔ سوال اٹھانا بداعتمادی، اختلاف غداری اور احتساب دشمنی سمجھا جانے لگتا ہے۔ یوں سیاسی جماعت یا تحریک ایک اجتماعی ادارہ کم اور کسی شخصیت کے گرد قائم وفاداری کا حلقہ زیادہ بن جاتی ہے۔
یہی شخصی سیاست کا سب سے گہرا نقصان ہے۔ یہ صرف اداروں کو کمزور نہیں کرتی بلکہ کارکنوں کی اخلاقی تربیت کو بھی بدل دیتی ہے۔ اگر کوئی نوجوان قومی تحریک میں خلوص، قربانی اور اصول پسندی کی امید لے کر شامل ہوتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہ دیکھتا ہے کہ جن لوگوں کو وہ دیانت اور نظریے کی علامت سمجھتا تھا، وہی مفاد پرستی، تضاد یا موقع پرستی کا شکار ہیں، تو اس کے اندر صرف مایوسی ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایک اخلاقی سوال بھی جنم لیتا ہے: ’’اگر یہاں اصولوں پر چلنے والا آخرکار نقصان اٹھاتا ہے اور اصول توڑنے والا آگے بڑھتا ہے، تو پھر میں اصولوں کی قیمت کیوں ادا کروں؟‘‘
یہ سوال کسی بھی تحریک کے لیے انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ ایک بدعنوان یا بے اصول رہنما صرف اپنی ذات کو خراب نہیں کرتا بلکہ اپنے گرد موجود لوگوں کے لیے بھی غلط رویوں کو قابلِ قبول بناتا ہے۔ کارکن آہستہ آہستہ یہ سیکھنے لگتے ہیں کہ اگر قیادت کے لیے یہ سب جائز ہے، تو شاید ان کے لیے بھی ناجائز نہیں۔ یوں بدعنوانی محض مالی یا سیاسی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ ایک اخلاقی ثقافت کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے۔
اس صورتِ حال میں سب سے زیادہ نقصان اس کارکن کا ہوتا ہے جو ابتدا میں واقعی مخلص تھا۔ وہ پہلے سوال کرتا ہے، پھر دفاع کرنا چھوڑ دیتا ہے، اس کے بعد بدگمان ہوتا ہے، پھر لاتعلق ہو جاتا ہے اور بعض اوقات بالآخر اسی رویے کو اپنا لیتا ہے جس سے وہ کبھی بیزار ہوا کرتا تھا۔ یہ محض ایک فرد کا زوال نہیں بلکہ ایک پورے سیاسی ماحول کی ناکامی ہے۔
اسی لیے کسی قومی تحریک میں فرد کی اہمیت کو ختم کرنا مقصود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فرد کو مرکزِ حقیقت بنانے کا رجحان ضرور ختم ہونا چاہیے۔
قیادت ہو، مگر قیادت سے بالاتر اصول بھی ہوں۔
وابستگی ہو، مگر وابستگی سے بالاتر ادارے بھی ہوں۔
اعتماد ہو، مگر اعتماد کے ساتھ احتساب بھی ہو۔
اور سب سے بڑھ کر، ایسا سیاسی ماحول ہو جہاں کسی شخص سے محبت یا وفاداری کا مطلب یہ نہ ہو کہ اس سے سوال کرنا چھوڑ دیا جائے۔
کیونکہ جس تحریک میں کسی ایک شخص کو غلط ثابت ہونے سے بچانے کے لیے اداروں کو قربان کیا جائے، وہاں نقصان صرف حال تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات آنے والی نسلوں کے سیاسی شعور میں بھی منتقل ہوتے ہیں۔
ہم آج شخصی سیاست کے جو اثرات دیکھ رہے ہیں، ممکن ہے کہ ان کی پوری شدت ابھی سامنے نہ آئی ہو۔ اصل حساب شاید اس وقت ہوگا جب وہ کارکن، جو کبھی خلوص کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہوئے تھے، اپنے تجربات نئی نسل تک منتقل کریں گے۔ تب سوال یہ نہیں ہوگا کہ فلاں شخص کتنا بڑا رہنما تھا، بلکہ سوال یہ ہوگا کہ ہم نے ایک شخص کو بڑا بناتے بناتے اپنے اداروں کو کتنا چھوٹا کر دیا؟
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں کسی بھی قومی تحریک کو شخصیت پرستی سے نکل کر ادارہ جاتی استحکام، عقیدت سے نکل کر شعور اور اندھے اعتماد سے نکل کر سیاسی بلوغت کی طرف بڑھنا ہوگا۔


Add comment