“جس زمین کے نام بدل دیے جائیں، اس زمین کی تاریخ فوراً ختم نہیں ہوتی؛ مگر نام بدلنے کا عمل اگر نسلوں تک جاری رہے تو ایک وقت آتا ہے جب زمین کے اصل وارث ہی اپنی تاریخ کے گواہ تلاش کرنے لگتے ہیں۔”

کراچی کو صرف ایک جدید شہری، تجارتی یا انتظامی اکائی کے طور پر دیکھنا اس شہر کی اس طویل تاریخ کو نظرانداز کرنا ہے جو اس کے موجودہ نام اور موجودہ حدود سے کہیں پرانی ہے۔ کراچی کی زمین، اس کے ساحلی راستے، گوٹھ، مویشیوں کے راستے، پانی کے مقامات، قبرستان اور قدیم آبادیوں کے نام ایک ایسی تاریخی یادداشت اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں جس میں بلوچ قبائل، خصوصاً گبول، کلمتی اور جوکیو، کی موجودگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کون یہاں آباد ہوا اصل سوال یہ ہے کہ کس کی موجودگی کو تاریخ کا حصہ بنایا گیا اور کس کی موجودگی کو نام بدل کر، نقشہ بدل کر اور بیانیہ بدل کر غائب کیا گیا؟

کراچی کی تاریخ کو اگر اس کے مقامی ناموں کی زبان میں پڑھا جائے تو شہر ایک مختلف نقشے کی صورت اختیار کرتا ہے۔ آج جس جگہ کو خداداد کالونی کہا جاتا ہے، مقامی تاریخی روایت اسے ناکو خداداد کی زمین سے جوڑتی ہے۔ اسی طرح ملیر کے نام کو بلوچی لسانی روایت میں عورت کے بالوں کی تین لٹوں یا حصوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں؛ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جگہوں کے نام اکثر ان لوگوں کی روزمرہ زندگی، جغرافیہ، رسم و رواج اور زبان سے پیدا ہوتے ہیں جو وہاں صدیوں تک رہتے ہیں۔

سپر ہائی وے کے اطراف دریجی، مول خدیجی اور چوکنڈی جیسے مقامات بھی اس قدیم جغرافیے کی یاد دلاتے ہیں۔ خاص طور پر چوکنڈی کے قبرستان کو محض چند خوبصورت قبروں کا مجموعہ سمجھنا کافی نہیں۔ قبرستان کسی معاشرے کی سب سے خاموش مگر مضبوط تاریخی دستاویز ہوتے ہیں؛ وہاں دفن لوگوں کے نام، قبروں کا طرزِ تعمیر اور آس پاس کے مقامات اس خطے کی سماجی تاریخ کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح دمب گوٹھ کو آج اگر عام تلفظ میں “دنبہ گوٹھ” کہا جاتا ہے تو مقامی روایت میں اس کا پرانا نام “دمب” بتایا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق یہ وہ مقام تھا جہاں بعض بیماریوں کے علاج کے لیے دم کیا جاتا تھا۔ خواہ اس مخصوص اشتقاق پر مزید تاریخی و لسانی تحقیق درکار ہو، لیکن یہ مثال ایک اہم حقیقت سامنے لاتی ہے ناموں کی معمولی سی صوتی تبدیلی بھی کئی نسلوں بعد اصل معنی کو دھندلا سکتی ہے۔

اسی سلسلے میں گڈاپ، لالو کیٹ، میران ناکہ، گلشن، سہراب گوٹھ کیاءِماڑی اور دوسرے نام آتے ہیں۔ مقامی روایات میں گڈاپ کو پانی جمع ہونے والے مقام سے، لالو کیٹ کو ناکو لال محمد کی زمین سے، اور میران ناکہ کو ایسے مقام سے جوڑا جاتا ہے جہاں آمدورفت یا ٹیکس وصولی کا نظام موجود تھا۔ سہراب گوٹھ کو سہراب گبول سے منسوب کیا جاتا ہے، جبکہ مقامی روایت میں اس علاقے کی وسعت کو موجودہ کراچی یونیورسٹی کے اطراف تک بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک احتیاط ضروری ہے ہر نام کی لسانی اصل کو قطعی تاریخی حقیقت قرار دینے کے بجائے ان روایات کو دستاویزی، آثارِ قدیمہ اور نوآبادیاتی ریکارڈ کے ساتھ جانچنا چاہیے۔ لیکن یہی مقامی نام تحقیق کے لیے بنیادی سراغ فراہم کرتے ہیں۔

اورنگی اور اس کے قدیم ناموں، اسی طرح کُلا کوٹ، تولگی لین، لسبیلہ اور کیماڑی جیسے نام کراچی کے اس جغرافیے کو سامنے لاتے ہیں جو صرف جدید شہری منصوبہ بندی سے وجود میں نہیں آیا تھا۔ کیماڑی کے حوالے سے مقامی تاریخی روایت اسے “کیاءِ ماڑی” سے جوڑتی ہے۔ لسبیلہ چوک بھی ایک خاص تاریخی رشتہ یاد دلاتا ہے، کیونکہ لسبیلہ ایک ایسی ریاست تھی جس کے ساتھ کراچی کے بلوچ قبائل کے تاریخی روابط کو سمجھنا ضروری ہے۔

یہاں سے لسانیات کا سوال شروع ہوتا ہے۔

زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتی؛ زبان اجتماعی یادداشت کا ذخیرہ بھی ہوتی ہے۔ کسی جگہ کا نام اس جگہ کے ساتھ انسانی تعلق کی علامت ہوتا ہے۔ جب ایک آبادی کسی علاقے کو اپنے مخصوص نام سے پکارتی ہے تو وہ نام دراصل ایک غیر تحریری دستاویز ہوتا ہے۔ اس میں زمین، خاندان، قبیلہ، پانی، چراگاہ، قبرستان، راستہ اور روزمرہ زندگی کی یادیں محفوظ رہتی ہیں۔ چنانچہ کسی جگہ کا نام تبدیل کرنا بظاہر ایک معمولی انتظامی عمل ہوسکتا ہے، مگر طویل مدت میں یہ یادداشت کی سیاست بن جاتا ہے۔

فرض کریں ایک جگہ کا مقامی نام ایک بلوچ خاندان، قبیلے یا قدیم جغرافیائی خصوصیت سے وابستہ ہے۔ بعد میں اس جگہ کو کسی نئے انتظامی، سیاسی یا شہری نام سے پکارا جانے لگتا ہے۔ پہلی نسل کو پرانا نام یاد رہتا ہے، دوسری نسل دونوں نام استعمال کرتی ہے، مگر تیسری نسل نئے نام کو ہی “اصل” نام سمجھنے لگتی ہے۔ اس مرحلے پر صرف نام نہیں بدلتا؛ زمین کے ساتھ تعلق کی زبان بھی بدل جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کراچی کے پرانے ناموں کو محض “نام” سمجھنا تاریخی غلطی ہوگی۔ یہ نام ایک متبادل نقشہ بناتے ہیں ایسا نقشہ جو سرکاری نقشے سے پہلے لوگوں کی زبان میں موجود تھا۔ اگر آج کوئی شخص صرف جدید کراچی کے نقشے کو دیکھ کر اس شہر کی تاریخ لکھے گا تو اسے سڑکیں، چوراہے، کالونیاں اور تجارتی مراکز نظر آئیں گے لیکن اگر وہ پرانے بلوچ ناموں، گوٹھوں، قبرستانوں اور مقامی زبانی روایت کو پڑھے گا تو اسے ایک دوسرا کراچی نظر آئے گا آبادیوں، قبائلی روابط، ساحلی راستوں، چراگاہوں اور مقامی زمین داری کا کراچی۔

اسی تناظر میں کراچی کے بلوچ قبائل خصوصاً گبول، کلمتی،کلانچی اور جوکیو کی تاریخ کو شہری تاریخ کے مرکزی متن میں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ کراچی کی تشکیل میں بلوچ آبادیوں اور قبائلی گروہوں کا تاریخی کردار بنیادی اور قدیم ہے، اور شہر کی بعد کی کثیر آبادی نے اس پہلے سے موجود جغرافیے پر نئی تہیں قائم کیں۔ کراچی ایک کثیرالثقافتی شہر ضرور بنا، مگر کثیرالثقافتی ہونا اس بات کو منسوخ نہیں کرتا کہ کسی شہر کی قدیم مقامی تاریخ بھی ہوتی ہے۔

یہاں نوآبادیاتی دور بھی اہم ہوجاتا ہے۔ مقامی بلوچ روایت میں یہ بات نسل در نسل بیان ہوتی رہی ہے کہ برطانوی افواج جب اس خطے میں داخل ہوئیں تو انہیں مقامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈرگ روڈ، کیماڑی اور دیگر مقامات کے نام بھی نوآبادیاتی اور بعد از نوآبادیاتی تبدیلیوں کے ساتھ نئے معنوں میں داخل ہوئے۔ لیکن اس پوری تاریخ کو جذباتی روایت کے بجائے برطانوی سرکاری ریکارڈ، فوجی دستاویزات، پرانے نقشوں، مردم شماری اور مقامی قبائلی شجرات کے ساتھ ملا کر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ کا مقصد صرف فخر پیدا کرنا نہیں؛ تاریخ کا مقصد ثبوت کے ذریعے یادداشت کو مضبوط کرنا بھی ہے۔

مسئلہ اس وقت زیادہ گہرا ہوجاتا ہے جب نئی آبادیاں پرانی آبادیوں کو “باہر سے آنے والے” تصور کرنے لگیں اور اصل مقامی آبادی کو خود اپنی زمین میں اجنبی بنا دیا جائے۔ یہ صرف آبادی کا مسئلہ نہیں یہ بیانیے کی طاقت کا مسئلہ ہے۔ جو گروہ شہر کی تاریخ لکھتا ہے، وہ اکثر یہ بھی طے کرتا ہے کہ شہر کا “اصل” باشندہ کس کو کہا جائے گا۔

اسی لیے کراچی کے بلوچ ناموں کی بازیابی محض قوم پرستانہ جذبات کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ایک علمی منصوبہ بنانا چاہیے۔ پرانے نقشے جمع کیے جائیں، برطانوی دور کی مردم شماریاں پڑھی جائیں، زمین کے ریکارڈ دیکھے جائیں، چوکنڈی اور دوسرے قبرستانوں کے کتبے دستاویزی شکل میں محفوظ کیے جائیں، بلوچ گوٹھوں کی قدیم حدود معلوم کی جائیں، بزرگوں سے زبانی تاریخ ریکارڈ کی جائے، اور ہر نام کی بلوچی، سندھی، اردو اور نوآبادیاتی صورت کا تقابلی لسانی مطالعہ کیا جائے۔

کیونکہ اگر کسی جگہ کا نام بدل جاتا ہے تو صرف لفظ نہیں بدلتا؛ اس لفظ کے ساتھ جڑی ہوئی اجتماعی یادداشت بھی کمزور ہوتی ہے۔ اور جب اجتماعی یادداشت کمزور ہوجائے تو ایک نسل بعد آنے والا شخص پوچھتا ہے“یہ لوگ یہاں کے کیسے ہوئے؟” حالانکہ شاید سوال الٹا ہونا چاہیے “یہ زمین ان لوگوں کے ناموں، قبروں، گوٹھوں اور تاریخی روایت میں کب سے موجود تھی؟”

کراچی کے بلوچ نام ہمیں اسی سوال کی طرف واپس لے جاتے ہیں۔ ناکو خداداد، ملیر، گڈاپ، دمب گوٹھ، سہراب گوٹھ، میران ناکہ، لالو کیٹ، کیماڑی، لسبیلہ، کُلا کوٹ،مدھو گوٹھ اور دوسرے مقامی نام ایک منتشر مگر اہم تاریخی آرکائیو کی مانند ہیں۔ ان میں سے ہر نام کو الگ سے تحقیق کی ضرورت ہے، مگر مجموعی طور پر یہ نام اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جدید کراچی کے نیچے ایک قدیم مقامی جغرافیہ موجود ہے جسے صرف جدید شہری ناموں سے نہیں سمجھا جاسکتا۔

اس لیے کراچی کے بارے میں بلوچ دعویٰ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ “کراچی ہمارا ہے” اس دعوے کو اس سے زیادہ مضبوط جملے میں تبدیل کرنا چاہیے کراچی کی تاریخ میں بلوچوں کی موجودگی کو مٹایا نہیں جاسکتا، کیونکہ زمین کے نام، قبرستان، گوٹھ، قبائلی روایات اور مقامی زبان خود اس تاریخ کے گواہ ہیں۔

شہر کسی ایک دن پیدا نہیں ہوتا۔ شہر تہہ در تہہ بنتا ہے۔ ایک تہہ مقامی لوگوں کی ہوتی ہے، دوسری ہجرت کرنے والوں کی، تیسری تجارت کی، چوتھی نوآبادیاتی اقتدار کی، اور پھر جدید ریاست و شہری منصوبہ بندی کی۔ کراچی بھی ایسی ہی تہوں سے بنا ہے۔ لیکن اگر جدید ترین تہہ کو پوری عمارت کی واحد تاریخ بنا دیا جائے تو نیچے دفن تمام تاریخیں غائب ہوجاتی ہیں۔

کراچی کو سمجھنے کے لیے اس کے موجودہ نام کافی نہیں کراچی کو اس کے پرانے ناموں میں دوبارہ پڑھنا ہوگا۔ اور ان ناموں کو پڑھتے ہوئے بلوچ تاریخ کو کراچی کی حاشیے کی کہانی نہیں بلکہ شہر کی تشکیل کی بنیادی تاریخی تہوں میں سے ایک کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو نام محض ایک نشان یا علامت نہیں بلکہ وجود اور مقام کے درمیان اس رشتے کا اظہار ہے جسے انسان صدیوں میں تشکیل دیتا ہے۔ ہائیڈیگر کے فلسفے میں “بودن” یعنی کسی جگہ میں حقیقی معنوں میں موجود ہونے کا تصور اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب انسان اپنی زمین کو اپنی زبان اور اپنے نام کے ذریعے پہچانے۔ جب کسی زمین کا نام بدل دیا جاتا ہے تو گویا وہ زبان جو انسان اور مقام کے درمیان معنی خیزی کا وسیلہ تھی، منقطع ہو جاتی ہے، اور انسان اپنی ہی جگہ میں ایک اجنبی وجود بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ بیگانگی محض جغرافیائی نہیں بلکہ وجودی نوعیت کی ہوتی ہے، جہاں فرد اپنے ماضی، اپنی یادوں اور اپنے آبائی تشخص سے کٹ جاتا ہے۔

اس تناظر میں نام کی تبدیلی دراصل ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے “ہونے” اور “تعلق رکھنے” کے احساس کو چیلنج کرتا ہے۔ فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ شناخت کوئی جامد چیز نہیں بلکہ زبان، مقام اور یادداشت کے تعامل سے مسلسل تشکیل پاتی رہتی ہے۔ چنانچہ جب نام، جو اس تشکیل کا بنیادی ستون ہے، چھین لیا جاتا ہے تو انسان اپنی اصل سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناموں کا تحفظ محض لسانی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وجود کی اس بنیادی خواہش کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنی زمین کے ساتھ معنی خیز اور مستقل رشتہ قائم رکھ سکے۔

کبھی ہر موڑ پہ اک یاد ہمارا انتظار کرتی تھی
اب شہر تو وہی ہے، مگر شہر نہیں رہا

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *