• تاریخ ایسے حوالوں سے بھری ہوئی ہے جہاں عظیم شخصیات نے تاریخی حرکیات کو سمجھ کر اس پر غیر معمولی طور پر اثر انداز ہونے کا کردار ادا کیا۔ جب بھی ان سے ان کے علم کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا جواب یہی رہا: “من نمی‌دانم”، یعنی معصومیت اور شدت کے ساتھ اپنی لاعلمی کا اظہار، کیونکہ انہیں وسعتِ علم کا اندازہ تھا، جو کسی عام شخص کو نہیں ہو سکتا۔ وہ جانتے تھے کہ اس بحرِ بیکراں کا سفر مکمل کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا بحرِ بیکراں ہے کہ جس قدر انسان اس میں غوطہ زن ہوتا ہے، اسی قدر اس کی گہرائی کا شعور حاصل کرتا جاتا ہے۔

جب ہم بلوچ قحط الرجال کی بات کرتے ہیں تو، سوائے بابا مری کے، جو انتہائی معصومیت اور شدت کے ساتھ تسلسل سے سقراط کی طرح خود اقرار کرتے تھے کہ “میں اتنا نہیں جانتا”، دوسری طرف جب ہم بلوچ سمجھ کی بات کرتے ہیں تو انگلیوں پر گنے جانے والے ایک آدھ افراد کو چھوڑ کر اجتماعی دانش کا قافلہ افلاسِ دانش کی کس سطح پر کھڑا ہے؟ ہم اس کا کس حد تک ادراک رکھتے ہیں، یا نہیں رکھتے؟ کیا یہ سوالات اٹھانا یہاں گستاخی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا یہ خبطِ عظمت ہمیں ان صفوں میں شامل نہیں کر رہا جو تاریخی حرکیات کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں؟

کیا ہم بغیر کسی “قومی مکالمے” کے، فقط کتابوں کا ڈھیر لگا کر، ان علمی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں جو اس قبضے اور سفاکیت کے خاتمے کا سبب بن سکیں؟ یا ہم خود کو خودفریبی میں مبتلا کر کے اپنی جھوٹی انا کی تسکین کا سامان پیدا کر رہے ہیں؟ ہم قومی مفادات کا کس حد تک شعور رکھتے ہیں؟ یا ہم کسی دامِ فریب کا شکار تو نہیں ہو رہے؟ اس حوالے سے ہمارے ہاں “سائنسی ڈائیلاگ” کا تصور کہاں تک ہے؟ بطورِ قوم کیا ہم شعور کی اس سطح کا تصور کر سکتے ہیں جو طاقت کے پیمانوں اور نظم و اتفاق کے اصولوں سے واقفیت رکھنے کے لیے ہر حال میں ضروری ہے؟ ہم بابا مری کے اس سادہ جملے کو سمجھنے میں اتنی دیر کیوں لگا رہے ہیں، جس کی قیمت بلوچ بیٹے اور بیٹیاں اپنے خون کی صورت میں ادا کر رہے ہیں: “مری کا تیل مری نہیں بچا سکتا، طاقت کے دائرے وسیع کرنے ہوں گے۔”

کیا طاقت کا وہ تصور ہم رکھتے ہیں جو بابا مری دے رہے ہیں؟ کیا ہم گروی تو نہیں ہو رہے؟ یا کھوکھلی طاقت کے خمار میں ہم اپنے آپ کو نظرانداز تو نہیں کر رہے؟ کیونکہ جس طاقت کی باگیں کسی اور کے ہاتھ میں ہوں، وہ طاقت کے بجائے آخرکار کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ بقولِ بابا مری، کیا ہم کبھی اپنے دستِ بازو پر بھروسا کر سکیں گے؟ کیا سیال کو اپنا بنا کر اور اپنے بھائی کو سیال سمجھ کر کوئی حقیقی طاقت اس پُرفتن قبضے کو انجام تک پہنچا سکے گی، جس کی قیمت اس وقت آگ اور خون ہے، اور جس کا خواب بلوچ بحیثیتِ قوم دیکھ رہی ہے؟ کیا ہماری انا، ضد، لالچ اور لاعلمی بربریت سے بھرے اس قبضے کے سلسلے کو مزید طول تو نہیں دے رہی؟ کیا بلوچ کبھی اس لمحے کو محسوس کریں گے کہ ایک ہی منزل کے مسافر ایک ہی گڈان میں بیٹھ کر اس سفر کی تکمیل کی جانب رواں دواں ہوں؟

اس لمحے کے لیے ہمیں تاریخ کی درست سمت کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی زمین سے، اور غیر کی بجائے زمین زادوں سے جڑنا ہوگا، جس کا نقشہ شہید بالاچ مری نے بندر عباس سے لے کر ہلمند تک بلوچ کو یک جان، یک قالب بنا کر واضح کیا تھا۔ وگرنہ تاریخ کی بے رحمی کبھی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ آج بلوچ بحیثیتِ قوم نہ صرف سروں کی قربانی دے رہی ہے بلکہ بڑی خندہ پیشانی سے، بطورِ قوم، بچے، بوڑھے، مرد و زن اس اذیت ناک سلسلے کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیا ہمارا قومی شعور اس بات کا اندازہ کر سکتا ہے کہ ہم علاقائیت، گروہیت، قبائلیت اور درآمد شدہ نظریات کے زیرِ اثر رہ کر وحشی قبضہ گیری کا خاتمہ کر سکیں گے؟ کیا بلوچ قیادت، جو اس وقت ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد بنا کر امامتِ قوم کا دعویٰ کر رہی ہے، اس کا یہ اطمینان کہیں کسی مزید بڑی تباہی کا پیش خیمہ تو نہیں؟ کیا ہم قومی و بین الاقوامی سیاسی و فوجی زیر و بم سے واقف ہیں، اور بحث و مباحثے کی اہمیت کے بارے میں کس حد تک حساس ہیں؟

یہ تمام سوالات غور طلب ہیں۔ ہمیں طاقت اور انا کے خمار سے نکل کر ان سوالوں کے جواب دینے ہوں گے۔ ہم تاریخ کے سامنے جواب دہ ہیں، وگرنہ وہ سارے نام جنہیں آج بلوچ اپنے سینے سے لگا کر رکھے ہوئے ہیں، کل کو باعثِ شرمندگی اور باعثِ عبرت نہ بن جائیں، اور لمحوں کی خطا برسوں کا کلنک نہ بن جائے۔

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *