میں تاریکیوں میں اسیر ایک نہ بجھنے والا چراغ، زندانوں میں قید ایک نہ مدھم ہونے والی صدا، زنجیروں میں جکڑی ہوئی ایک آزاد روح، ایک آزاد نظریہ، اور ایک آزاد سوچ ہوں۔ میں آزاد فضل بلوچ ہوں۔
میں جانتا ہوں کہ تم (ظالم) چاہتے ہو کہ مجھے برسوں قید رکھو، مجھ پر تشدد کرتے رہو، مجھے زنجیروں میں جکڑ کر رکھو، مجھ سے میری آزادی سلب کر لو، مجھ سے میرے الفاظ چھین لو، میری صدا کو گرفت میں لینے کی کوشش کرو، مجھے بولنے سے روک دو، مجھے تاریکیوں میں گم کرنے کی سعی کرو، مجھے قلم سے دور رکھو، کتابوں سے میرا تعلق ختم کر دو، مجھ سے میرا عشق چھین لو، اور مجھے ہمیشہ کے لیے ایک بے وجود انسان قرار دے دو۔
ہاں! تم یہی چاہتے ہو۔
پر…
تمہاری یہ تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔ تم اونچی اڑان بھرنے کا غرور تو کرو گے، عقاب کی طرح یہ گمان بھی کرتے رہو گے کہ سارا آسمان تمہارے پروں کے نیچے ہے، مگر کیا تم بھول گئے ہو کہ شکاری انہی پروں کو نشانہ بنا کر تم پر وار کریں گے؟
کیا تم اُن صداؤں کو بھول گئے ہو جو تاریکیوں میں بھی تمہارے ظلم کے سائے تلے گونجتی رہیں گی؟
کیا تم اُس مزاحمت کار کو بھول گئے ہو جو تمہارے ظلم اور بربریت کے سامنے ڈٹا رہا، جو قید میں رہ کر بھی چراغ کی طرح بجھ نہ سکا، اور جس کی ہمت کبھی نہ ٹوٹی وہی سنگت ثناء؟
جو ہمیشہ یہی کہتا رہا:
“تم میرے جسم کو قید کر سکتے ہو، مگر میری سوچ اور میرے نظریے کو نہیں۔”
یاد رکھو:
تم جسم کو قید کر سکتے ہو، مگر آزاد روح کو نہیں۔
میں یہ چیخ چیخ کر کہتا ہوں کہ میں، فضل بلوچ، ہارا نہیں ہوں۔ میں مضبوط ہوں، اور مزید مضبوط بنتا جاؤں گا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں انصاف کا علمبردار ہوں۔ میں تعلیم کا شوقین اور علم و ادب کے فروغ کا داعی ہوں۔ میں آزاد ہوں، کیونکہ میں ایک استاد ہوں اور شعور سے لبریز ہوں۔ کتاب اور قلم میرا عشق ہیں۔
میں لوٹوں گا، ضرور لوٹوں گا۔
میں مجرم نہیں، میں مظلوم ہوں۔ مگر یاد رکھنا! مظلومیت میری کمزوری نہیں، میری پستی نہیں، میری شکست نہیں، بلکہ میری طاقت، میری ہمت اور میرا حوصلہ ہے۔ ظلم و جبر کی عمر جتنی بھی طویل ہو، وہ سچ، انصاف اور حق کے ایک چراغ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے، جھک جاتی ہے، اور تمہاری ہزاروں برس کی ظلمت اور تاریکی کو مٹا دیتی ہے۔
میں قلم کی حرمت اور علم کی روشنی کے ساتھ تمہاری تاریکیوں کے مدِ مقابل کھڑا رہوں گا۔
میں ہاروں گا نہیں۔
میں جھکوں گا نہیں۔
اے وحشی!
کیا تمہیں وہ چہرے یاد نہیں جو تمہاری زندانوں میں رہ کر بھی میری قوم نے دنیا کے سامنے عیاں کیے؟ کیا تم دیکھتے نہیں کہ تمہاری کالی کوٹھڑیوں میں بھی ہم درخشاں بن کر نمودار ہو رہے ہیں؟ تمہاری زنجیروں کی چھن چھن نہیں، بلکہ حق، انصاف اور زندانوں سے آزادی کے گیت گونجتے ہیں۔ تمہاری بلند دیواریں ان بہادر نوجوانوں کے سامنے ہیچ ہیں۔
تم چلاؤ، تم چیخو، تم سوالات کی بوچھاڑ کرو، مگر ہمارے چند جملے ہی تمہیں پست کر دیں گے:
“ہم کمزور نہیں، ہم ہارے نہیں، ہم جھکیں گے نہیں، ہم رکیں گے نہیں۔”
تم جھٹلاتے رہو گے کہ تم ظالم نہیں، اور میری قوم یہ ثابت کرتی رہے گی کہ تم ہی ظالم ہو، تم ہی جابر ہو، تم ہی درندے ہو۔
تم کب تک سیاہ چادر میں چھپتے رہو گے؟ کب تک ہمیں تاریکیوں میں رکھو گے؟ ہم پر کب تک تشدد کرتے رہو گے؟ کب تک چلاؤ گے؟
تم ہمیں ہمیشہ قید نہیں رکھ سکتے۔ ہم آج زندانوں میں ہیں، مگر کل آزاد فضاؤں میں ہوں گے۔ ہم اونچی اڑان بھریں گے۔
میری محکوم و مظلوم قوم!
میں لوٹ آؤں گا، تم انتظار کرنا، جدوجہد کرنا، مزاحمت کرنا۔
کبھی رکنا نہیں…
کبھی جھکنا نہیں!


Add comment