“کوئی بھی چیز اُس وقت تک تبدیل نہیں ہوتی جب تک اُس کا سامنا نہ کیا جائے۔”  جیمز بالڈون

ہم دشمن کا تو بے خوفی سے سامنا کرتے ہیں، مگر کیا کبھی ہم نے خود اپنا سامنا بھی اسی بے خوفی سے کیا ہے؟ کیا ہم نے خود سے یہ سوال کیا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکنے سے کیوں گھبراتے ہیں؟ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی کمزوریوں، اپنی غلطیوں اور اپنی محدودیت کو دیکھنے سے کیوں کتراتے ہیں؟ آخر ہم اُن بنیادی سوالات سے نظریں کیوں چرا لیتے ہیں جو ہماری فکری اور سیاسی زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں؟

جب کوئی غلطی سے یہ سوالات اٹھاتا ہے تو ہم اُسے فوراً کسی نہ کسی خانے میں کیوں رکھ دیتے ہیں؟ کبھی اُسے فلاں تنظیم کا آدمی قرار دے کر یا کسی مخصوص رہنما یا نظریے کا پیروکار کہہ کر، بالکل اُسی طرح جیسے پاکستانی سیاست میں ہر اختلافی آواز کو کوئی نہ کوئی لیبل لگا کر خوابِ خرگوش کے مزے لیے جاتے ہیں۔ کیا یہ رویہ اس بات کا اظہار نہیں کہ ہمیں اصل میں سوالات کا سامنا کرنے سے، اپنے آپ کا سامنا کرنے سے خوف آتا ہے اور ہم خوش فہمیوں کا سلسلہ دراز کرنے پر اکتفا کیے بے سُدھ بیٹھے ہیں؟

کیا “آگے دوڑو، پیچھے چھوڑ” کی نفسیات واقعی ہمیں آگے لے جا رہی ہے، یا مسلسل تقسیم در تقسیم کے ذریعے ہمیں مزید پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ بے شمار تنظیمی تشکیلوں، سیاسی گروہ بندیوں اور عسکری محاذوں کے باوجود ہم آج بھی اُسی بے قراری، اُسی عجلت اور اُسی غیر سنجیدگی کا شکار ہیں جس کا شکار ہم پہلے تھے؟ جہاں ہمیں رک کر سوچنا چاہیے تھا، غور و فکر کرنا چاہیے تھا، وہاں ہم نے جلد بازی اور عجلت میں کبھی کرپشن کے نام پر، کبھی نظم و ضبط کے نام پر اور کبھی ادارہ سازی کے نام پر سیاسی لابنگ کے ذریعے خود کو مزید تقسیم کیا۔ کیا اب بھی فکری پختگی کے بجائے ایک طرف بندوق کا زعم اور دوسری طرف چند تعلیمی اسناد (یونیورسٹیوں کے رقعوں) کا زعم بڑھتا نہیں جا رہا؟

آج جلاوطن سیاسی رہنما اور عسکری محاذ پر موجود سنگتوں کا یہ اعتراف (Confession) سنائی دیتا ہے کہ ہم نے بڑے عجلت میں فیصلے کیے، ہمیں نواب خیر بخش مری کو سنجیدگی سے سننا چاہیے تھا۔ کیا ابھی تک یہی عجلت، جلد بازی اور غیر سنجیدگی ہر محاذ پر اُسی طرح جاری و ساری نہیں ہے؟ بدقسمتی سے ہمیں آج بھی کہیں “فکری پختگی” اور “فکری استاد” کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم ازسرِنو بلوچ قومی تحریک کی “فکری پسماندگی” کا جائزہ لیں اور تاریخ سے سبق لے کر مجموعی طور پر اپنا اپنا سامنا کرتے ہوئے “فکری ہتھیار” سے لیس ہو جائیں؟

التھیوسر اپنے ایک خط “تاریخ کی کہانی کا اخلاقی سبق” میں اپنے فکری اور فلسفی دوست میراب، جن کا ماننا تھا کہ جلاوطن ہونے کے بجائے “میں یہیں رہوں گا، کیونکہ حقیقت کو برہنہ اور اُس کی تہہ تک دیکھنا صرف یہیں ممکن ہے”، سے مخاطب ہو کر لکھتے ہیں کہ انقلابی ناکامیوں کی ایک بنیادی وجہ “فکری استاد کا نہ ہونا” اور محض ایکٹیوازم کے نتیجے میں پیدا ہونے والا “فکری بحران” ہے۔

التھیوسر کے نزدیک وہاں (فرانس) بھی جلد بازی غالب آ گئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ شاید انہیں “میخائل کوتوزوف” (جنہوں نے نپولین کو اپنی صبر آزما حکمتِ عملی اور منظم پسپائی سے شکست دی) جیسا سپہ سالار درکار تھا، جو اپنے گھوڑے کی پشت پر سوتے ہوئے عظیم پسپائی کی قیادت کر سکتا، مگر ان کے پاس ہماری طرح نہ ایسے گھوڑے تھے اور نہ شاید فکری بصیرت، کیونکہ ہر پسپائی اور صبر کا انجام شکست نہیں ہوتا۔

اسی تناظر میں وہ ایک ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس پر آج ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو “حساب کے دن” آنے سے پہلے سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ یقیناً ابھی تک حساب کا دن آن نہیں پہنچا۔

“آخرکار حساب کا دن آن پہنچتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حساب کون بناتا ہے، یا شاید کوئی بھی نہ بنائے، لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ تمام چھوٹے چھوٹے قرضے (غلطیاں)، جنہیں ہم کبھی جمع نہیں کرتے، ایک طویل فہرست کی صورت میں ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور عموماً قیمت بڑے خرچ کرنے والے (قیادت) ادا نہیں کرتے، بلکہ تم (میراب) اور میری طرح کے عام لوگ، بلکہ ان سے بھی زیادہ پریشان اور بے بس لوگ، اُس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔”

التھیوسر یہاں ایک تاریخی تجربہ دہراتا ہے کہ جو قومیں اپنا بروقت محاسبہ نہیں کرتیں، جنگ اُن کی اپنی پشت تک پھیل جاتی ہے۔

اُن کے مطابق:

“تاریخ میں حالات کا تغیر کوئی نئی بات نہیں۔ چھوٹی چھوٹی غلطیوں کا انبار آہستہ آہستہ پورے منظرنامے کو بدل دیتا ہے۔ تبدیلی دیر تک اپنا فیصلہ نہیں سناتی، پھر اچانک ایک دن محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہی ہوا نہیں لے رہے جو پہلے لیتے تھے۔ مگر اس بار، اگرچہ حقائق بہت زیادہ ہیں، رہنمائی کرنے والی تمام نشانیاں غائب ہو چکی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے ایک محاذ پر برسوں جدوجہد کی ہو، اور پھر اچانک معلوم ہو کہ وہ محاذ خود ہی تحلیل ہو گیا ہے؛ اب کوئی متعین محاذ باقی نہیں رہا، بلکہ جنگ ہر جگہ پھیل چکی ہے، اور سب سے پہلے ہماری اپنی پشت پر۔”

جب جنگ ہماری اپنی پشت تک پہنچ جائے تو پھر سوال دشمن کے ساتھ ساتھ خود ہمارا بھی ہوتا ہے۔ تب ہمیں پوچھنا پڑتا ہے کہ جن کے لیے ہم نے بندوق اٹھائی تھی، وہ بندوق جو فکر کی علامت ہے، اُن کے لیے اب وحشت کا باعث کیوں بنتی جا رہی ہے؟ ہم بدل کیوں نہیں رہے؟ مسابقت کی دوڑ میں ہمارے پاس بندوق اور سپاہی کی فراوانی تو ہو گئی، لیکن بقول ہیر بگش مری، “سپاہی تو بہت ہیں، لیکن کمانڈر نہیں”۔ یہ کمی آج تک کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟

ہمیں غور کرنا ہے کہ اصل مسئلہ صرف Practice یا سرگرمی کا نہیں، بلکہ Praxis کا ہے؛ یعنی صرف سرگرمی کا نہیں بلکہ شعوری، تنقیدی اور خود کو بدلنے والے عمل کا ہے۔ مسئلہ صرف اس بات کا نہیں کہ ہم موجود ہیں یا متحرک ہیں، بلکہ اس کا ہے کہ ہم اپنے آپ کو کس حد تک شعوری اور سیاسی طور پر تبدیل کر رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کتنے سیاسی یا عسکری طور پر مصروفِ عمل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہماری یہ مصروفیت ہمیں کس سمت لے جا رہی ہے؟ کیا ہمارا عمل ہمیں شعوری طور پر بدل رہا ہے؟ کیا ہم میں بلوچ اسپرٹ توانا ہوتی جا رہی ہے؟ اپنے لوگوں سے ہمارا رویہ آقا و غلام، طاقت و کمزوری، بندوق و نہتا پن کا ہے یا صرف بلوچ اور بلوچیت کا؟ یا پھر ہم انہی دائروں میں گردش کر رہے ہیں جنہیں ہم توڑنے اور بدلنے کا دعویٰ کرتے ہیں؟

اسی طرح سوال صرف کیڈر تیار کرنے اور ریکروٹمنٹ کا بھی نہیں، بلکہ زمین زاد ہونے کا ہے؛ وہ زمین زاد جو سرگرمی اور شعوری عمل کے فرق کو سمجھے، جو صرف اثبات پر اکتفا نہ کرے بلکہ جدلیاتی نفی کو تخلیقی تشکیلِ نو کے طور پر سمجھے۔ ایسی قیادت جو نوجوانوں کو محض طاقت، جوش اور فوری کامیابی کے سراب میں مبتلا کرنے کے بجائے انہیں سیاسی شعور، نظریاتی پختگی اور اخلاقی و انقلابی ذمہ داری سے آراستہ کرے، اور سب سے بڑھ کر جو انہیں اپنی قوم، اپنے وطن، اپنی زمین اور زمین زادوں کے ساتھ ایسا گہرا رشتہ استوار کرنے کی صلاحیت دے جو ہر سیاسی جدوجہد کی اصل بنیاد بنتا ہے۔

وگرنہ سیاسی محاذ سے لے کر عسکری محاذ تک اپنی غلطیوں پر قربانی کی چادر کب تک ڈالی جاتی رہے گی؟ بقول التھیوسر:

“آخرکار انسان کو نہ صرف اپنی غلطیوں کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے بلکہ دوسروں کی غلطیوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے۔۔۔ اور وہ ‘دوسرے’ بھی کیسے کیسے۔”

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *