“ایک قوم کو اپنی بقا کے لیے بہادری اور ذہانت کے ساتھ لڑنا چاہیے۔”
گوئبلز
بلوچ قومی تحریک کو آج ایک “احمق” کی ضرورت ہے، جس کا سوچنے کا انداز مختلف ہو۔ الیگزینڈر سولژنیتسن کے ناول The First Circleکا کردار گلیب نیرژِن، سوویت نظام کے تحت قید کے دوران، رہائی اور ماسکو میں رہائش کے بدلے ایک Technical Task پر کام کرنے کی پیشکش کیے جانے پر، اس پیشکش کو قبول کرنے کی بجائے اپنے سابقہ استاد کے سامنے ایک “احمقانہ” سوال رکھتا ہے: “پروفیسر، پہلے اس بات پر گفتگو ہونی چاہیے کہ مجھے میرے خیالات کی وجہ سے جیل میں بند کیوں کیا گیا ہے؟”
وہ یہ جانتے ہوئے بھی اس سوال پر قائم رہتا ہے کہ اس انکار کے بعد اسے ماسکو کی نسبت کہیں زیادہ سخت زندگی اور شاید سائبیریا کے یخ بستہ ماحول میں اپنی زندگی کے آخری لمحات قیدِ تنہائی میں گزارنے پڑ سکتے ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ فوری حصول کے بجائے اصول کو ترجیح دیتے ہوئے اس سوال سے دستبردار نہیں ہوتا کہ وہ حالات پیدا ہی کیوں ہوئے جن میں اسے قید کیا گیا ہے؟
یقیناً مختلف انداز سے سوچنا اور سوال کرنا کبھی کبھار جرم بن جاتا ہے۔ پھر یا تو جیل مقدر بن جاتی ہے یا معاشرہ انسان کو احمق کہتا ہے۔ لیکن یقین جانیے، آج ہمیں ایک “احمق” کی ضرورت ہے؛ ایک ایسا احمق جو ہماری ہاں میں ہاں ملانے کے بجائے رک کر تفکر کر سکے، سوچ سکے اور ایسے سوالات اٹھا سکے کہ: “کیا معاملہ واقعی وہی ہے جو ہمیں دکھائی دے رہا ہے یا اس کے برعکس؟” یعنی وہ جانچ سکے، پرکھ سکے، سوال کر سکے؛ پھر یہ اس کا مقدر کہ وہ کہاں پہنچتا ہے۔
نجانے کیوں، سوتے جاگتے، چلتے پھرتے، جب آپ کے ذہن میں ایک ہی دھن سوار ہو کہ قابض ہماری جنگ کو کیسے دیکھ رہا ہے اور ہم اپنی لڑائی کیسے لڑ رہے ہیں، تو مختلف خیالات آپ کو گھیر لیتے ہیں۔ کبھی مارکس کے الفاظ ذہن میں گونجتے ہیں کہ “کیا انقلابی کچھ دیر انتظار نہیں کر سکتے؟” خیر، مارکس کو کیپیٹل لکھنا تھا، ہم نے تو کیپیٹل کو ہاتھ تک نہیں لگایا، لیکن ہماری دانش کے دعوے کیپیٹل سے بڑھ کر ہیں۔
اسی کشمکش میں کبھی لینن پکارتا ہے: “سیکھو، سیکھو، سیکھو!” لینن نے بھی سیکھنے کے لیے جلاوطنی کاٹی اور کیپیٹل کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے ہیگل کی Science of Logic کو بار بار پڑھا۔ یاد رہے، وہ اس ہیگل کو نہیں پڑھ رہا تھا جسے پروفیسر صاحبان یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہوئے متروک فلسفی کہہ کر تاریخِ فلسفہ کے کسی باب میں بند کر دیتے ہیں، بلکہ وہ اس ہیگل کو پڑھ رہا تھا کہ وہ عملی طور پر سیاست، انقلاب اور جدلیاتی سوچ میں کس قدر کارگر ہے، تاکہ کچھ سیکھ سکے۔
لیکن یہاں کجا ہیگل، کجا مارکس، کجا لینن! التھیوسر کی بات یونہی یاد آئی کہ “جرمنی نے مارکس کو جنم دیا، روس نے لینن کو جنم دیا، اٹلی نے گرامشی کو جنم دیا، اور ہمیں اپنا استاد خود بننا پڑا۔”
تو میں بات کر رہا تھا کہ ہمیں ایک “احمق” کی ضرورت ہے؛ ایک ایسا احمق جس کا سوچنے کا انداز مختلف ہو، جو بقولِ چیسٹرتن، “دشمن کی تعداد سے بڑھ کر دشمن کے فلسفے کو جانتا ہو”، اس کی حکمتِ عملی اور عزائم سے واقف ہو۔ کیونکہ “Deep State Policies” اکثر وہ نہیں ہوتیں جو ہمیں بظاہر نظر آتی ہیں یا جنہیں کبھی کبھار عاقل و دانش مند “فوری عمل اور فوری نتیجے” کی صورت میں اپنی کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔
جبکہ “احمق” اس پورے منظرنامے میں فوری عمل اور فوری نتیجے کے بجائے کچھ اور سوچ رہا ہوتا ہے۔ اس کی ذہنی نظر فوری واقعات کے بجائے Deep State Policies کی تہہ در تہہ داخلی اور بین الاقوامی سیاست پر ہوتی ہے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ جو عمل ہم اپنی پالیسیز کے تحت ادا کر رہے ہوتے ہیں، کیا ہم خود اس عمل اور پالیسیز تک پہنچے ہیں یا دشمن کی حکمتِ عملی کے تحت ہمیں اس سمت دھکیلا گیا ہے؟
کیونکہ ہمارا ہر عمل ہماری سمت کے ساتھ ساتھ ان Deep State Policies کا بھی تعین کرتا ہے، جن میں داخلی سیاست، ریاستی پالیسی، علاقائی طاقتیں اور بین الاقوامی سیاست ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں۔
ژیزیک اپنی کتاب Less Than Nothing کا آغاز کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ احمقوں کی تین اقسام ہیں۔
پہلی قسم Idiot کی ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو علامتی نظام اور سیاق و سباق کو نہیں سمجھ پاتا، جسے لاکاں کی زبان میں Big Other کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے احمقوں میں وہ اپنی مثال پیش کرتے ہیں کہ:
“مثلاً جب میں پہلی مرتبہ نیویارک گیا تو ایک کیفے میں ویٹر نے مجھ سے رسمی طور پر پوچھا:
’آپ کا دن کیسا گزرا؟‘
میں نے اس جملے کو ایک حقیقی سوال سمجھ لیا اور پوری سچائی سے جواب دیا:
’میں بالکل تھکا ہوا ہوں، جیٹ لیگ کا شکار ہوں، ذہنی دباؤ میں ہوں وغیرہ وغیرہ۔‘
وہ مجھے اس طرح دیکھنے لگا جیسے میں مکمل احمق ہوں۔۔۔ اور وہ درست تھا۔”
اسی سلسلے میں ژیزیک ایلن ٹیورنگ کی بھی مثال دیتے ہیں، جو کہ ایک ریاضی دان تھے۔ ژیزیک کے مطابق، “وہ غیر معمولی ذہانت کے مالک، لیکن ایسے شخص تھے جو ابتدائی نوعیت کی نفسیاتی کیفیت رکھتے تھے اور اس قابل نہیں تھے کہ کسی صورتِ حال کے ضمنی اور غیر کہے ہوئے سیاقی قواعد کو سمجھ سکیں۔”
ژیزیک کے نزدیک دوسری قسم کے احمق Moron ہیں، جو سیاق و سباق پر اس قدر منحصر ہوتے ہیں کہ ان کی اپنی سوچ تقریباً ناپید ہو جاتی ہے۔ وہ صرف ہاں میں ہاں ملانا جانتے ہیں۔ وہ مروجہ عام فہم کو اتنی سچائی سمجھ لیتے ہیں کہ انہیں یہ خیال ہی نہیں گزرتا کہ چیزوں کو کسی اور زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ “سب ہی یہی کہہ رہے ہیں تو یقیناً یہی درست ہوگا۔”
اور تیسری قسم کے احمق Imbecile ہوتے ہیں، جو سیاق و سباق سے نہ بالکل کٹ جاتے ہیں اور نہ ہی سیاق و سباق پر مکمل طور پر منحصر ہوتے ہیں۔ وہ سیاق و سباق کے اندر رہتے ہوئے بھی ایک قدم پیچھے ہٹ کر مختلف انداز سے سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دراصل اس کتاب میں ژیزیک بنیادی طور پر ہیگل کو پڑھنے والوں سے مخاطب ہیں کہ یہ کتاب کن قارئین، یعنی احمقوں کی کس کیٹیگری کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب نہ ان احمقوں کے لیے ہے جو سیاق و سباق سے بالکل باہر ہوتے ہیں اور نہ ہی جامعات کے ان پروفیسرز (Moron) کے لیے جو سیاق و سباق پر مکمل طور پر منحصر ہوتے ہیں، بلکہ یہ Imbecile کے لیے ایک Guide ہے، جن کا زاویۂ نگاہ اور سوچنے کا انداز مختلف ہے۔
اب آتے ہیں اصل مدعا پر۔ اس پورے پس منظر میں ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کامن سینس (عام فہم) صرف حقیقت کو دیکھنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ بعض اوقات ریاست، ادارہ یا طاقت خود ہماری فہم کو استعمال کرکے ہماری نظر کو مخصوص سمت موڑتی ہے، یا ہمیں کسی خاص سمت دھکیلتی ہے، جسے ہم فوری عمل اور فوری نتیجے کی صورت میں بڑی کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔
ہمیں اپنی پالیسیز اور اعمال کو سیاق و سباق پر مکمل طور پر انحصار کرکے، یا سیاق و سباق سے مکمل دستبردار ہوکر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ ہر زاویے سے پرکھنا اور جانچنا چاہیے کہ: “کیا معاملہ واقعی وہی ہے جو بظاہر دکھائی دے رہا ہے یا کچھ اور؟”
اس کی آسان مثال شرلاک ہومز کا کردار ہے۔ جب واٹسن میز پر خالی بوتل دیکھ کر فوراً کہتا ہے کہ یقیناً قاتل نے شراب پی ہے، تو شرلاک ہومز سوچتا ہے: شاید قاتل ہی چاہتا تھا کہ پولیس یہی سمجھے کہ اس نے شراب پی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا قاتل مکار ہے۔ ہمیں اب بھی بہت کچھ سیکھنا ہے، کیونکہ جنگیں صرف بہادری سے نہیں بلکہ ذہانت سے بھی لڑی جاتی ہیں۔
لینن کے یہ الفاظ، “سیکھو، سیکھو، سیکھو!”، ہمارا منشور ہونا چاہیے۔ ٹیکٹکس کی دنیا سے لے کر اسٹریٹیجی اور پالیسیز کی دنیا تک، یہ الفاظ ہمیں ازبر ہونے چاہییں۔ یعنی ہماری ہر کتاب کے سرورق سے لے کر ہر شمارے کے صفحات تک، ہر گلی، ہر چوک کی ہر دیوار، ہر درخت اور پہاڑوں کے ہر پتھر پر یہ الفاظ لکیر ہونے چاہییں:
“سیکھو، سیکھو، سیکھو!”
کیونکہ دشمن کی تعداد سے زیادہ دشمن کے عزائم کو جاننا اہم ہے: وہ سوچتا کیسے ہے؟ اور سب سے اہم، ہم اپنی سمت کا انتخاب خود کر رہے ہوتے ہیں یا کبھی کبھار اسی سمت دھکیلے جاتے ہیں؟ یا ہماری پالیسیز کو دشمن اپنے مفادات میں کیسے بدلتا ہے؟ یہی سیکھنا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں لینن کے یہ الفاظ، “سیکھو، سیکھو، سیکھو!”، سیاسی بصیرت، فکری تربیت اور حکمتِ عملی، بشمول جنگی چالوں، کا بنیادی اصول بن جاتے ہیں۔


Add comment