جارج برنارڈ شا جب ایک ذہین عورت کو سوشلزم اور کیپیٹل ازم کے حوالے سے اپنی کتاب The Intelligent Woman’s Guide to Socialism and Capitalism میں رہنمائی فراہم کر رہے تھے تو انہوں نے سات اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی بیان کیا کہ ’’جس کے پاس جتنی طاقت ہے، وہ اتنا ہی ہتھیا لے۔‘‘ پھر وہ خود اسی اصول پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس اصول کے ذریعے انسانیت کا بنیادی مسئلہ حل ہو سکتا ہے؟

مارکس کے بنیادی مؤقف کو سمجھے بغیر مارکس کو رد کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا مذکورہ اصول کو حصولِ زر کا جواز سمجھ لینا، یعنی میرے پاس جتنی طاقت ہے، میں اسی طاقت کو برقرار رکھنے اور اسے مزید مؤثر اور پرزور بنانے کے لیے، طاقت کے زور پر، جتنا کچھ ہتھیا سکتا ہوں، ہتھیا لوں، اس بات کی پروا کیے بغیر کہ ’’کون کیا ہے؟‘‘ مجھ سے نہ کوئی پوچھنے والا ہو، نہ کوئی سوال کرنے والا کہ حصول اور تقسیم کے اس کھیل میں ہم کیا کچھ کھو رہے ہیں اور کیا کچھ پا رہے ہیں؟

جہاں تک پیسے کی تقسیم کا تعلق ہے، تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی تحریک میں جب مالی وسائل کی تقسیم حقیقی ضروریات کے بجائے ذاتی تعلقات اور سیاسی سنگت داری کے تابع ہو جائے تو اس سے نہ صرف تقسیم اور جوڑ توڑ کی سیاست جنم لیتی ہے، بلکہ ایک ایسا نظام بھی تشکیل پانے لگتا ہے جس میں پیسہ محض ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ نہیں رہتا، بلکہ تنظیمی خودمختاری حاصل کرنے، فیصلوں پر اثرانداز ہونے اور اجتماعی جواب دہی سے بچنے کا وسیلہ بھی بن جاتا ہے۔ اسی طرح، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، جب مالی وسائل فراہم کرنے والے افراد انہی وسائل کی بنیاد پر تنظیمی فیصلوں، تقرریوں، ترقی و تنزلی اور تبادلوں میں خصوصی اختیار کا مطالبہ کرنے لگیں تو اجتماعی نظم اور کمان کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔ چنانچہ کسی بھی تحریک کے لیے بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ حصولِ زر اور اس کی تقسیم کا عمل کس مرکزی نظام کے تحت انجام پاتا ہے؟ کون، کیسے اور کن اصولوں کے تحت مدِمقابل کو مدِنظر رکھتے ہوئے مالی وسائل حاصل کرتا ہے، اور ان کی تقسیم کا معیار کیا ہے؟

مارکس کے بنیادی مؤقف اور جارج برنارڈ شا کے سوال کو یہاں بیان کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ کسی بھی قومی تحریک میں جب تقسیم اور مسابقت کا عنصر سرایت کر جائے اور معاملہ ’’پیسے کے حصول سے لے کر اس کی تقسیم‘‘ تک جا پہنچے تو وہاں سوشلزم یا مساوی تقسیم ہی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس، یہاں یہ سوال اٹھانا مقصود ہے کہ کہیں ہم عجلت اور بے ساختگی میں ان ’’غیر مرئی قوتوں‘‘ کا شکار تو نہیں ہو گئے جن پر مارکس کی سرمایہ داری پر تنقید کی بنیاد قائم ہے اور جن کے بارے میں خیر بخش مری بہت پہلے ہی تنبیہ کر چکے تھے۔

نوجوان مارکس کا بنیادی مؤقف، بقول کولاکووسکی، ابتدا میں یہ تھا کہ سرمایہ داری میں غریب، غریب تر اور امیر، امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ لیکن سرمایہ داری نے جہاں محنت کش کو ایک پیداواری قوت بنایا، وہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے ایک صارف، یعنی خرچ کرنے والے، میں بھی تبدیل کر دیا۔ اس لحاظ سے اب محض یہ کہنا کہ غریب مسلسل غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے، سرمایہ داری کے مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ محنت کش کو قرضوں، صارفیت اور سرمایہ دارانہ نظام کی داخلی حرکیات کے ذریعے کچھ نہ کچھ آسائشیں اور سہولتیں بھی میسر آنے لگی ہیں۔

یوں نوجوان مارکس کے ابتدائی تصور، یعنی سرمایہ داری میں غریب کے مسلسل غریب تر ہوتے چلے جانے، کی جگہ بالغ اور بوڑھے مارکس کے ہاں سرمایہ داری کی ایک زیادہ پیچیدہ تنقید سامنے آتی ہے۔ اب مسئلہ محض غربت کے اضافے یا کمی کا نہیں، بلکہ ان ’’غیر مرئی قوتوں‘‘ کا بھی ہے جو انسانوں پر حکمرانی کرنے لگتی ہیں۔ یعنی جن اشیا کو انسان نے خود پیدا کیا تھا، وہی سرمایہ دارانہ اسٹرکچر کی بدولت پلٹ کر اس پر حکمرانی کرنے لگتی ہیں۔ جیسا کہ انسان نے پیسہ خود بنایا، لیکن رفتہ رفتہ خود اسی پیسے کے کلٹ کا شکار ہوتا گیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سرمایہ داری کی تنقید محض ’’غریب اور امیر‘‘ کے درمیان فرق تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس سوال تک پہنچتی ہے کہ انسان اپنے ہی پیدا کردہ نظاموں، اشیا اور مادی رشتوں کے تابع کیسے ہو جاتا ہے۔ اس پوری صورتِ حال میں المیہ یہ ہے کہ انسان کو اکثر اس بات کا شعور بھی نہیں رہتا کہ وہ کب، کیسے اور کس طرح ان ’’غیر مرئی قوتوں‘‘ کے گرداب میں جکڑا جا چکا ہے۔

مارکس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سرمایہ داری ایک ایسا خودکار نظام بھی ہے جس میں سرمایہ دار اور محنت کش، دونوں، اس کے داخلی تقاضوں میں جکڑ جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ بیگانگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ دار اس نظام کے تحت محنت کش کا کسی نہ کسی صورت میں استحصال کرتا رہتا ہے، لیکن اس کی وجہ محض سرمایہ دار کی ذاتی بے رحمی یا اخلاقی خرابی نہیں، بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی وہ ساخت بھی ہے جس میں سرمایہ دار خود بھی اس نظام کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے اور اسے مزید مضبوط بنانے کا، ایک طرح سے، آلہ بن جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ خیر بخش مری کی اس تنبیہ کو سامنے رکھتے ہوئے، یعنی ’’بلوچ کے لیے دوسرے میدانوں میں جیتنے کے امکانات موجود ہیں، لیکن کہیں روپے کی ریل پیل میں ہم شکست نہ کھا جائیں‘‘، کیا واقعی ہم سرمایہ داری کے ایسے گرداب میں پھنس چکے ہیں جہاں اصول یہ بن گیا ہو کہ جس کے پاس جتنی طاقت ہے، وہ بندوق کے زور پر، بغیر کسی مرکزی میکانزم کے، اتنا ہی ہتھیا لے، اس بات کی پروا کیے بغیر کہ سامنے والا کون ہے اور اس عمل کا نشانہ کہیں عام بلوچ تو نہیں بن رہا؟

یہاں ہائیڈیگر کا بنیادی فلسفہ ہمیں اپنے آپ کو، پیسے کے کلٹ کو اور قومی تحریک کی اس صورتِ حال کو سمجھنے میں کسی حد تک مدد دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کسی آلے کے استعمال سے پہلے اس کے بارے میں ہمارا تصور اور اس کے ساتھ ہمارا تعلق اہم ہوتا ہے۔ جب وہی آلہ عملی طور پر ہمارے ہاتھ میں آ جاتا ہے تو اس کے استعمال سے پیدا ہونے والا تعلق ہمارے مجموعی طرزِ فکر کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟ اس صورت میں کوئی بھی آلہ محض ایک غیر جانب دار شے نہیں رہتا، بلکہ دنیا کو دیکھنے، دوسروں سے تعلق قائم کرنے اور فیصلے کرنے کے ہمارے انداز پر بھی اثرانداز ہونے لگتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بندوق بطور آلہ ہماری سوچ اور تعلقات پر کس طرح اثرانداز ہوئی ہے؟ کیا بندوق ہمارے ہاتھ آ چکی ہے، یا ہماری فکر کب کی بندوق کے ہاتھوں یرغمال ہو چکی ہے؟ بالفاظِ دیگر، بندوق ہمارے ہاتھ میں ہے یا ہم بندوق کے ہاتھوں میں ہیں؟

کیا پیسے کی ریل پیل اور بندوق کے زور پر ہم وہی کچھ نہیں کر رہے جس کی طرف مارکس نے بہت پہلے اشارہ کیا تھا کہ ایک مرحلے پر انسان کے اپنے بنائے ہوئے اسٹرکچر کس طرح خود انسان پر حاوی ہو جاتے ہیں؟ یہاں تک کہ انسان کی اقدار کے ساتھ ساتھ سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت بھی ماند پڑنے لگتی ہے۔

ایک طرف، اپنی سرزمین پر منشیات، بشمول تریاق کی کاشت، اور ریاستی دہشت (structured and unstructured violence) کے فروغ میں ملوث لوگوں سے حصہ وصول کرنے کے بعد انہیں راستہ دے کر ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ وہ کس طرح قابض دشمن کے اسٹرکچرڈ اور نان اسٹرکچرڈ وائلنس کے لیے مفید ثابت ہوتے آ رہے ہیں۔ دوسری طرف، شواہد یہ بتاتے ہیں کہ ہم نہ صرف پیسے کی ریل پیل کے باعث اپنے ہی بنائے ہوئے اسٹرکچر کے زیرِ اثر آ چکے ہیں، بلکہ شاید ہمیں اس کا ادراک بھی نہیں رہا کہ بندوق کس طرح ہم پر حکمرانی کرنے لگی ہے۔ اپنے ہی لوگوں کے ساتھ ہمارا لب و لہجہ اب کس قدر بدل چکا ہے، ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔ ہمیں یہ احساس بھی نہیں کہ کسی قابض قوت کے بندوق بردار کے لہجے اور ہمارے لہجے میں فرق اب بھی باقی ہے یا نہیں۔

بدقسمتی سے، ہم برنارڈ شا کے بیان کردہ سات اصولوں میں سے اسی ایک اصول کو اپنے لیے حصولِ زر کا پیمانہ بنا چکے ہیں کہ ’’جس کے پاس جتنی طاقت ہے، وہ اتنا ہی ہتھیا لے‘‘، اس بات کی پروا کیے بغیر کہ ’’کون کیا ہے؟‘‘ اور یہ سب کچھ کسی مرکزی نظام یا واضح میکانزم کے بغیر ہو رہا ہے، جہاں یہ فرق بھی ملحوظ نہیں رکھا جاتا کہ سامنے والا ایک سرمایہ دار ہے یا ایک عام بلوچ۔

ہماری آنکھیں، ہمارے ذہنوں کی طرح، بے شک بند رہیں، لیکن خیر بخش مری اپنی ذہنی آنکھ سے مستقبل کے اس منظرنامے اور اس میں پوشیدہ خطرے کو بہت پہلے بھانپ چکے تھے۔ ان کا یہ کہنا کہ ’’اگر غور و فکر، سوچنے اور سمجھنے کا یہی حال رہا اور طاقت کا رخ تھوڑا بہت بھی ہماری طرف آ گیا، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ہر ریڑھی پر کھڑے نظر آئیں‘‘، دراصل اسی ’’پیسے کے کلٹ‘‘ کے بارے میں ایک گہری اور خطرناک تنبیہ تھی۔

اس تنبیہ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے، ہمیں محض ان ’’غیر مرئی قوتوں‘‘ کا بے جان آلہ بننے کے بجائے، اپنے بے آس لوگوں کے لیے اپنے احساسات، اخلاقی فیصلوں اور اجتماعی تجربات کو اپنی قومی تحریک کی اساس بنانا چاہیے۔

ریک ئنا ذرہ ئس دریا ٹی بٹینو پَٹّتہ

خوار ءِ نیلی آسمان ءَ لچّفینو پٹّتہ

خل تلار ئٹ کاٹمے تینا مِلی نا چَٹ اَلے

انت ئسے کن پا مَش ءَ نے لگّفینو پَٹّتہ

شاکر ندیم

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *