بلوچ قومی تحریک گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے مزاحمت، قربانی اور جدوجہد کی ایک طویل داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس دوران ہزاروں نوجوان لاپتہ ہوئے، سیکڑوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور بے شمار خاندان ریاستی جبر، جلاوطنی اور معاشی مشکلات کا شکار ہوئے۔

لیکن اس تمام قربانی کے باوجود ایک بنیادی سوال آج بھی بلوچ سماج کے سامنے موجود ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات تھیں جنہوں نے تحریک کو مضبوط اور متحد ہونے کے بجائے مسلسل تقسیم، انتشار اور داخلی کشمکش کی طرف دھکیلا؟

اگر گزشتہ چھبیس برسوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ بلوچ مزاحمتی تحریک ایک متحد قومی پلیٹ فارم کے بجائے متعدد دھڑوں اور مراکز میں تقسیم ہوتی گئی ہر نئی تقسیم کے بعد الزامات اور جوابی الزامات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا کسی کو غدار قرار دیا گیا، کسی کو قومی مجرم کہا گیا، اور کسی کو تحریک کے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ لیکن ایک بنیادی سوال ہمیشہ جواب طلب رہا کیا ان الزامات کے حق میں کبھی کوئی شفاف، ادارہ جاتی یا آئینی بنیاد عوام کے سامنے رکھی گئی؟

دنیا کی سنجیدہ سیاسی تحریکوں میں کسی بھی فرد یا قیادت کے خلاف الزامات محض جذباتی نعروں یا شخصی اختلافات کی بنیاد پر نہیں لگائے جاتے وہاں واضح ضابطے، آئین، احتسابی ادارے اور فیصلہ سازی کے اصول موجود ہوتے ہیں۔ اگر کوئی رہنما یا کارکن ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف ثبوت، تحقیقات اور باقاعدہ کارروائی کی جاتی ہے بلوچ تحریک میں بدقسمتی سے ایسی روایات مضبوط نہ ہو سکیں نتیجتاً اختلافات سیاسی اور ادارہ جاتی طریقے سے حل ہونے کے بجائے شخصی تنازعات میں تبدیل ہوتے گئے۔

سیاسیات کے ماہرین اسے “شخصی قیادت کا بحران” (Crisis of Personalistic Leadership) قرار دیتے ہیں۔ ایسی تحریکوں میں ادارے کمزور اور شخصیات طاقتور ہو جاتی ہیں جب شخصیت مرکز بن جائے تو اختلاف رائے کو نظریاتی مباحثے کے بجائے بغاوت یا غداری سمجھا جانے لگتا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تحریک کے اندر تنقیدی سوچ ختم ہونے لگتی ہے اور ایک محدود حلقہ تمام فیصلوں کا مالک بن جاتا ہے۔

دنیا کی تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، الجزائر کی آزادی کی تحریک میں نیشنل لبریشن فرنٹ (FLN) نے فرانسیسی استعمار کے خلاف جدوجہد کے دوران داخلی اختلافات کا سامنا کیا مگر بالآخر ایک مرکزی سیاسی ڈھانچہ قائم کیا گیا جس نے تحریک کو منتشر ہونے سے بچایا۔ اسی طرح ویتنام کی قومی تحریک میں مختلف دھڑوں کے باوجود اجتماعی فیصلہ سازی اور سیاسی نظم و ضبط کو فوقیت دی گئی۔ جنوبی افریقہ میں افریقی نیشنل کانگریس (ANC) نے نسل پرستانہ نظام کے خلاف لڑتے ہوئے داخلی اختلافات کو ادارہ جاتی مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔

اس کے برعکس دنیا کی وہ تحریکیں جو شخصیات کے گرد گھومتی رہیں اکثر تقسیم اور کمزوری کا شکار ہوئیں۔ فلسطینی قومی تحریک میں مختلف دھڑوں کے درمیان رقابت نے قومی جدوجہد کو نقصان پہنچایا، آئرش ریپبلکن تحریک بھی مختلف ادوار میں تقسیم ہوئی، لیکن وہاں ہر اختلاف کے ساتھ نظریاتی اور سیاسی دستاویزات موجود تھیں جن کی بنیاد پر عوام فیصلہ کر سکتے تھے کہ کون سا مؤقف درست ہے۔

بلوچ تحریک کا ایک بڑا المیہ یہ بھی رہا کہ بہت سے کارکن اور حمایتی سیاسی شعور کے بجائے شخصی وابستگیوں کے اسیر بنتے گئے۔ کسی شخصیت یا تنظیم سے وابستگی کو قومی شعور کا معیار سمجھ لیا گیا۔ سوال اٹھانے والے کو دشمن، مخالف یا مشکوک قرار دینا ایک عام رویہ بن گیا۔ یوں تنقیدی سوچ کے بجائے “چمچہ گری” اور غیر مشروط وفاداری کو فروغ ملا۔

یہ سوالات کسی تحریک کے خلاف نہیں بلکہ اس کی بہتری کے لیے ہیں۔ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتی ہیں۔ جو قومیں سوال پوچھنے والوں کو خاموش کر دیتی ہیں وہ فکری جمود کا شکار ہو جاتی ہیں۔

یہاں ایک اور اہم مسئلہ بھی توجہ طلب ہے۔ جب سیاسی کارکن یا نوجوان تنظیمی فیصلوں، قیادت کے رویوں، مالی وسائل، حکمتِ عملی یا اندرونی اختلافات کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو بعض حلقے فوراً یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ “یہ قومی راز ہیں”یہ اعلیٰ قیادت کے معاملات ہیں” یا “ہر بات عام کارکن کو جاننے کی ضرورت نہیں” بظاہر یہ دلیل تنظیمی نظم و ضبط یا سیکیورٹی کے نام پر پیش کی جاتی ہے مگر اکثر اوقات یہ احتساب اور جوابدہی سے فرار کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر مزاحمتی یا سیاسی تحریک کے کچھ حساس معاملات ایسے ہو سکتے ہیں جنہیں حفاظتی وجوہات کی بنا پر محدود رکھا جائے، لیکن اس اصول کو ہر قسم کے سیاسی اور تنظیمی سوالات پر لاگو کرنا ایک غیر جمہوری رویہ ہے۔ اگر ایک کارکن اپنی جوانی، اپنی آزادی، اپنا مستقبل اور بعض اوقات اپنی جان تک قومی جدوجہد کے لیے وقف کر سکتا ہے تو پھر اسے یہ جاننے کا حق بھی حاصل ہے کہ فیصلے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، اختلافات کیوں پیدا ہوئے، تحریک کا سیاسی راستہ کیا ہے اور قیادت کس سمت میں پیش قدمی کر رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تحریک کی اصل طاقت اس کے کارکن ہوتے ہیں۔ قیادت اگر دماغ ہے تو کارکن اس تحریک کا دل، ہاتھ اور ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں،تاریخ میں کوئی بھی قومی یا انقلابی تحریک صرف چند افراد کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوئی بلکہ باشعور، منظم اور سیاسی طور پر تربیت یافتہ کارکنوں کی وجہ سے آگے بڑھی ہے۔ اس کے برعکس جہاں کارکنوں کو اندھیرے میں رکھا گیا، معلومات کو چند افراد کی ملکیت بنا دیا گیا اور سوال پوچھنے کو بداعتمادی یا بغاوت سمجھا گیا، وہاں شخصی اقتدار تو مضبوط ہوا لیکن تحریک کمزور پڑ گئی۔

بلوچ قومی سیاست میں بھی ایک عرصے تک بعض حلقوں نے شخصیت پرستی اور غیر مشروط وفاداری کو سیاسی شعور پر ترجیح دی۔ نتیجتاً بہت سے کارکن اپنی تنظیم یا پسندیدہ قیادت کے دفاع میں تو سرگرم رہے، لیکن وہ ان بنیادی سوالات پر غور نہ کر سکے جو کسی بھی تحریک کی صحت اور مستقبل کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ اس طرزِ فکر نے بعض اوقات سیاسی وابستگی کو فکری وابستگی پر غالب کر دیا، اور تنقیدی سوچ کے بجائے چمچہ گری اور اندھی تقلید کو فروغ ملا۔

مگر آج بلوچ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس روایت کو چیلنج کر رہی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ جوابدہی کا مطالبہ غداری نہیں، شفافیت کی خواہش سازش نہیں اور قیادت سے سوال کرنا قومی مفاد کے خلاف نہیں۔ درحقیقت جو کارکن سوال کرتا ہے وہ تحریک سے لاتعلق نہیں ہوتا بلکہ اس کے مستقبل کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوتا ہے۔ ایک باشعور کارکن کسی بھی قومی تحریک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے، جبکہ اندھی تقلید بالآخر فکری جمود کو جنم دیتی ہے۔

آج بلوچ نوجوان محض نعروں، جذباتی خطابات یا تاریخی حوالوں سے مطمئن نہیں، وہ شفافیت، جوابدہی اور اجتماعی قیادت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ قومی وسائل کیسے استعمال ہو رہے ہیں، فیصلے کیسے ہو رہے ہیں، اور اختلافات کو حل کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ کسی رہنما یا تنظیم پر تنقید کرنا قومی جدوجہد سے غداری نہیں بلکہ اس کے ارتقا کا ایک لازمی حصہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قومی تحریک میں اندھی عقیدت سب سے خطرناک رجحانات میں سے ایک ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شخصیت پرستی اداروں کو کمزور اور قوموں کو فکری طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔ جرمن ماہرِ عمرانیات میکس ویبر نے خبردار کیا تھا کہ کرشماتی قیادت وقتی طور پر عوام کو متحرک تو کر سکتی ہے، لیکن اگر اسے ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیل نہ کیا جائے تو وہ بالآخر بحران پیدا کرتی ہے۔

بلوچ نوجوانوں کی نئی نسل اب اسی سوال کو اٹھا رہی ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ اگر ماضی میں کسی رہنما یا تنظیم نے غلطی کی تو اس کا احتساب کیوں نہیں ہوا؟ اگر کوئی الزام درست تھا تو اس کے شواہد کہاں ہیں؟ اگر کوئی فیصلہ قومی مفاد میں تھا تو اس پر اجتماعی مشاورت کیوں نہیں ہوئی؟ اگر کوئی قربانی قوم کے نام پر دی گئی تو اس کے نتائج اور حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کا حق عوام کو کیوں نہیں ملا؟

یہ سوالات کسی تحریک کے خلاف نہیں بلکہ اس کی بہتری کے لیے ہیں۔ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنی غلطیوں کا جائزہ لیتی ہیں۔ جو قومیں سوال پوچھنے والوں کو خاموش کر دیتی ہیں، وہ فکری جمود کا شکار ہو جاتی ہیں۔

آج بلوچ نوجوان محض نعروں، جذباتی خطابات یا تاریخی حوالوں سے مطمئن نہیں۔ وہ شفافیت، جوابدہی اور اجتماعی قیادت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ قومی وسائل کیسے استعمال ہو رہے ہیں، فیصلے کیسے ہو رہے ہیں، اور اختلافات کو حل کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ کسی رہنما یا تنظیم پر تنقید کرنا قومی جدوجہد سے غداری نہیں بلکہ اس کے ارتقا کا ایک لازمی حصہ ہے۔

جدید دنیا میں کامیاب سیاسی تحریکوں کی بنیاد چند بنیادی اصولوں پر کھڑی ہوتی ہے: ادارہ جاتی فیصلہ سازی، قیادت کا احتساب، سیاسی تعلیم، شفافیت اور اجتماعی ذمہ داری۔ اگر بلوچ قومی تحریک مستقبل میں ایک مضبوط اور مؤثر قوت بننا چاہتی ہے تو اسے بھی انہی اصولوں کو اپنانا ہوگا۔

وقت بدل چکا ہے وہ دور گزر رہا ہے جب چند افراد بند کمروں میں فیصلے کرتے تھے اور پوری قوم سے غیر مشروط اطاعت کی توقع رکھتے تھے۔ نئی نسل تعلیم یافتہ ہے، دنیا کے تجربات سے واقف ہے، اور سیاسی عمل کو جدید اصولوں کے مطابق دیکھنا چاہتی ہے۔ اب قوم شخصیات کے بجائے اداروں، نعروں کے بجائے پروگرام، اور جذبات کے بجائے سیاسی بصیرت کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بلوچ قومی تحریک کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا وہ اس بدلتی ہوئی حقیقت کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔ اگر تحریک اپنی صفوں میں تنقید، احتساب اور اجتماعی قیادت کے لیے جگہ پیدا کرتی ہے تو وہ زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر شخصی اجارہ داری، غیر مشروط وفاداری اور اختلاف رائے کو دبانے کی روایت برقرار رہی تو ماضی کی غلطیاں مستقبل میں بھی دہرائی جاتی رہیں گی۔

قومی آزادی کا خواب صرف قربانیوں سے نہیں بلکہ سیاسی بلوغت، ادارہ سازی اور اجتماعی شعور سے بھی تعبیر پاتا ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو دنیا کی کامیاب تحریکیں ہمیں سکھاتی ہیں، اور یہی وہ سوال ہے جو آج بلوچ نوجوان اپنی قیادت سے پوچھ رہا ہے۔

Add comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *